اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ حکومت اب بھی پیٹرول پر 8 روپے سبسڈی دے رہی ہے اور 23 روپےکا نقصان ڈیزل میں رہ گیا ہے، 10 تاریخ کو بجٹ میں کافی معاملات سمٹ جائیں گے۔نجی ٹی وی پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومت کے معاہدے کے مطابق پیٹرول 2 ماہ پہلے ہی 30 روپے مہنگا ہوجانا چاہیے تھا، اگرپیٹرول نہ بڑھاتے تو روپیہ مزیدگرتا اور مزید مہنگائی آتی۔پیٹرول کی قیمت میں مزید اضافہ، ملکی تاریخ میں پہلی بار 200 روپے سے تجاوزکرگیا۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ جون کے مہینے میں بجلی کی قیمتیں بڑھنے کا کوئی امکان نہیں، ہمیں شارٹ ٹرم پر مہنگی ایل این جی خریدنا پڑ رہی ہے،کوئلے کی قیمتیں ایل این جی سے بھی زیادہ ہوگئی ہیں،کوئلے سے بننے والی بجلی پر فیول کا خرچہ 30 روپے آرہا ہے، ایک ڈیڑھ ماہ مشکل گزریں گے، پھرآسانی ہوگی۔وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے سامنے توانائی بچانےکی سفارشات رکھیں گے، حکومت جانے سے3 روزپہلے پی ٹی آئی حکومت نے روس کو خط لکھا تھا جس کا آج تک جواب نہیں آیا، اگر روس 30 فیصد سستی گندم اور تیل دےگا تو لے لیں گے،ہم روس سے گندم خریدنے کے لیے بات کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں معلوم ہےکہ آئی ایم ایف نےکیا شرائط رکھی ہیں، عمران خان نے آئی ایم ایف سےکہا تھا سبسڈی نہیں دیں گے،لیویز لگائیں گے،کاش عمران خان اور شوکت ترین آئی ایم ایف سے ایسا معاہدہ کرکے نہ جاتے، عمران خان کو ملک کو اس حالت میں دھکیلنےکا کوئی حق نہیں تھا، عمران خان ملک کے لیے دشواریاں پیدا کر رہےتھے۔خیال رہے کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا ہے جس کے بعد پیٹرول ملکی تاریخ میں پہلی بار 200 روپے فی لیٹر سے تجاوز کرگیا ہے۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا۔وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی قیمت میں 30 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ایک لیٹر پیٹرول 209 روپے 86 پیسے کا ہوگیا ہے۔
جون کے مہینے میں بجلی کی قیمتیں بڑھنے کا کوئی امکان نہیں،وفاقی وزیر خزانہ








