واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) کی رپورٹ کے مطابق، جی سیون ممالک نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس خطے میں بڑھتی ہوئی تنازعات کا انجام “ناقابل تصور” نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق، جی سیون کا ماننا ہے کہ یہ کشیدگی پورے خطے کو ایک بڑے اور خطرناک تنازع میں دھکیل سکتی ہے، جس سے خطے کے تمام ممالک کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
جی سیون کے بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کوئی بھی ملک مشرق وسطیٰ میں مزید کشیدگی سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا، یعنی سب کو اس ممکنہ تنازع کے منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب، عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے اعلان کیا ہے کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں اضافی فوجی دستے بھیج رہا ہے۔ یہ اقدام اسرائیل اور حزب اللّٰہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اس وقت بھی مشرق وسطیٰ میں تقریباً 40,000 امریکی فوجی اہلکار موجود ہیں، اور نئی تعیناتی اس کشیدگی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کا حصہ ہو سکتی ہے۔
یہ صورتحال عالمی سطح پر بہت تشویشناک سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ اگر یہ تنازع مزید پھیلتا ہے، تو اس کے نتائج نہ صرف خطے کے لیے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔









