نئے صوبوں کی ضرورت صرف نقشے کی تبدیلی نہیں، بلکہ بجٹ، انفراسٹرکچر اور عوام تک سروسز کی رسائی کا سوال بھی ہے۔ خیبرپختونخوا کو ہی دیکھ لیں۔ 2026-27 کے بجٹ میں صوبے کا مجموعی ترقیاتی پروگرام تقریباً پانچ سو چوبیس ارب روپے رکھا گیا۔
جبکہ حکومت کے مطابق ترقیاتی منصوبوں میں سڑکوں اور انفراسٹرکچر کے ساتھ صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات بھی شامل ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایک ایسے صوبے میں جہاں دور دراز اضلاع پہاڑی اور وسیع جغرافیہ رکھتے ہوں، کیا پشاور سے ایک ہی انتظامی مرکز کے ذریعے ہر علاقے تک یکساں رفتار سے سہولیات پہنچائی جا سکتی ہیں؟
مختلف خطوں کی ضروریات مختلف ہو سکتی ہیں
خاص طور پر چترال، ڈیرہ اسماعیل خان، کوہستان اور دیگر دور دراز علاقوں کے شہریوں کے لیے دارالحکومت تک رسائی صرف انتظامی مسئلہ نہیں، بلکہ وقت، سفری اخراجات اور بنیادی خدمات تک رسائی کا مسئلہ بھی ہے۔ ایسے علاقوں میں اگر اعلیٰ انتظامی و تعلیمی ادارے شہریوں سے دور ہوں تو حکومت کی موجودگی کاغذ پر تو ہوتی ہے، مگر شہری کے لیے اس کا فائدہ محدود رہ سکتا ہے۔
صحت کے شعبے میں بھی یہی سوال اہم ہے۔ خیبرپختونخوا نے 2026-27 میں صحت کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل مختص کیے ہیں، جن میں صحت کارڈ کے لیے اڑتالیس ارب روپے اور ہسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ سمیت مختلف اقدامات شامل ہیں۔ لیکن صرف بجٹ مختص کرنا کافی نہیں؛ اصل پیمانہ یہ ہے کہ دور دراز علاقوں کے شہریوں کو ڈاکٹر، ہسپتال، لیبارٹریز اور ادویات کتنی جلدی اور کتنی دوری پر دستیاب ہیں۔
جنوبی پنجاب کی مثال بھی اسی بحث کو واضح کرتی ہے۔ پنجاب کے 2026-27 کے بجٹ میں صحت کے لیے 500.62 ارب روپے رکھے گئے، جبکہ ڈیرہ غازی خان میں کینسر ہسپتال کے لیے 15.21 ارب اور بہاولپور میں چلڈرن ہسپتال کے لیے 23.37 ارب روپے کی تجاویز شامل ہیں۔ یہ اعداد خود بتاتے ہیں کہ بڑے صوبے کے اندر مختلف خطوں کی ضروریات کتنی مختلف ہو سکتی ہیں۔
انتظامی فیصلوں کا اختیار شہریوں کے پاس ہوگا
اس لیے نئے صوبوں کی بحث صرف یہ نہیں کہ نقشے پر ایک نئی لکیر کہاں کھینچی جائے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا بجٹ بنانے، انفراسٹرکچر کھڑا کرنے، ہسپتال چلانے اور انتظامی فیصلے کرنے کا اختیار شہریوں کے قریب آ سکتا ہے؟
اگر جنوبی پنجاب یا خیبرپختونخوا کے دور دراز علاقوں میں انتظامی مرکز شہریوں کے قریب ہو، وسائل کی تقسیم ضرورت کے مطابق ہو اور مقامی حکومتیں بھی بااختیار ہوں تو نیا صوبہ محض نام کی تبدیلی نہیں رہے گا، بلکہ سروس ڈیلیوری بہتر بنانے کا انتظامی ماڈل بن سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:پاکستان کے چار صوبے، کیا یہ ماڈل کافی ہے؟
یعنی بحث یہ نہیں ہونی چاہیے کہ صوبے کتنے ہیں۔ بحث یہ ہونی چاہیے کہ ریاست اپنے شہری تک کتنی جلدی پہنچتی ہے۔









