پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث اکثر سیاست کی نذر ہوجاتی ہے، حالانکہ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ حکومت عام شہری تک کتنی جلدی اور مؤثر طریقے سے پہنچ سکتی ہے؟
پاکستان کونئے صوبوں کیساتھ نئے طرزِ حکمرانی کی بھی ضرورت ہے ؟
پاکستان چار صوبوں کے علاوہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان پر مشتمل ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چاروں صوبوں اور اسلام آباد میں 30 ڈویژنز، 136 اضلاع اور 591 تحصیلیں ہیں۔
جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو شامل کیا جائے تو مجموعی انتظامی یونٹس کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بنتی ہے۔ مگر مسئلہ صرف انتظامی یونٹس کی تعداد نہیں، بلکہ اختیارات اور وسائل کی نچلی سطح تک منتقلی بھی ہے۔
ورلڈ بینک کے مطابق 2024 میں مقامی حکومتوں کا مجموعی سرکاری اخراجات میں حصہ 5 فیصد سے بھی کم رہ گیا۔ یعنی جس سطح پر شہری کا روزمرہ حکومت سے براہِ راست واسطہ پڑتا ہے، اسی سطح پر مالی اختیار سب سے کمزور ہے۔
آبادی، جغرافیہ اور انتظامی اصلاحات کیلئےنئے صوبے ضروری
اس لیے پاکستان کو دو سطحوں پر اصلاحات کی ضرورت ہے۔ جہاں آبادی، جغرافیہ اور انتظامی ضرورت ہو وہاں نئے صوبے بنائے جائیں، اور ہر صوبے کے اندر مضبوط، بااختیار اور مالی طور پر خودمختار مقامی حکومتیں قائم کی جائیں۔
تمام مباحث کا محور سیاسی فائدہ نہیں بلکہ گڈ گورننس ہونا چاہیے؟
البتہ نئے صوبے بنانا آئینی طور پر آسان عمل نہیں۔ کسی صوبے کی حدود تبدیل کرنے کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی کم از کم دو تہائی اکثریت ضروری ہے، جبکہ پارلیمان میں بھی آئینی ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں:سندھ کی تقسیم کی بات بھی نہیں کی جاسکتی: مراد شاہ نے قومی اسمبلی کو خبردار کردیا
لہٰذا بحث کا محور سیاسی فائدہ نہیں بلکہ گورننس ہونا چاہیے۔ اگر نیا صوبہ بننے کے بعد بھی اختیارات دارالحکومت میں ہی رہیں تو فائدہ محدود ہوگا۔ لیکن اگر نئی انتظامی اکائیاں وسائل، نمائندگی اور اختیارات کو عوام کے قریب لے آئیں تو یہ پاکستان کے انتظامی بحران کا ایک مؤثر حل بن سکتی ہیں۔پاکستان کو شاید صرف نئے صوبوں کی نہیں، نئے طرزِ حکمرانی کی ضرورت ہے۔









