معروف ہالی وڈ اداکار جارج کلونی نے ٹرمپ انتظامیہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اس وقت اپنی تاریخ کے ایک ’بدقسمت دور‘ سے گزر رہا ہے۔
وینس فلم فیسٹیول کے افتتاحی روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے 65 سالہ اداکار نے کہا کہ ان کے خیال میں امریکا میں حکومت ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہے جن کے پاس کم ترین اہلیت ہے۔
جارج کلونی نے موجودہ امریکی صورتحال پر ’شرمندگی‘ کا اظہار کرتے ہوئے سیاسی اصطلاح ’کاکسٹو کریسی‘ کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس سے مراد ایسا نظام حکومت ہے جو کم ترین اہلیت رکھنے والے افراد کے ہاتھ میں ہو، شاید امریکا بھی اس وقت اسی کیفیت سے گزر رہا ہے۔
تاہم اداکار نے امید ظاہر کی کہ امریکا اس مشکل دور سے نکل آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات حکومت کے لیے ’چیک اینڈ بیلنس‘ کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔
جارج کلونی نے امید ظاہر کی کہ 2028 تک امریکا میں کسی حد تک معمول کی صورتحال بحال ہوسکتی ہے۔
مزید پڑھیں:85 میٹر گہرائی میں آباد انسانی تاریخ کی حیران کن اور محفوظ ترین پناہ گاہ
خود کو پُرامید شخص قرار دیتے ہوئے اداکار نے 1968 کے پُرتشدد دور کا حوالہ بھی دیا، جب امریکا کے کئی شہروں میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے، مارٹن لوتھر کنگ جونیئر اور بوبی کینیڈی ایک ہی سال قتل ہوئے تھے جبکہ امریکی کیپیٹل کے گرد ٹینک بھی تعینات کیے گئے تھے۔









