بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

85 میٹر گہرائی میں آباد انسانی تاریخ کی حیران کن اور محفوظ ترین پناہ گاہ

انقرہ: ترکی کے صوبے نو شہر کے تاریخی علاقے کیپاڈوشیا میں واقع دیرین کویو (Derinkuyu) یامالاکوپی نامی قدیم زیرِ زمین شہر فنِ تعمیر، تاریخ اور انسانی تحفظ کی ایک بے مثال داستان پیش کرتا ہے۔ سطحِ زمین سے تقریباً 85 میٹر (280 فٹ) کی گہرائی تک پھیلا ہوا یہ ملٹی لیول شہر ترکی میں اب تک دریافت ہونے والے تمام زیرِ زمین کمپلیکسوں میں سب سے بڑا ہے، جس میں 20,000 تک انسان اپنے مویشیوں اور خوراک کے ذخائر کے ساتھ ایک وقت میں باحفاظت قیام کر سکتے تھے۔

ترکی زبان میںدیرین کویو کا مطلب گہرا کنواں ہے، جو یہاں موجود پانی کے ان گہرے کنوؤں سے منسوب ہے جو نیچے روپوش آبادی اور اوپر قائم قصبے کو پانی فراہم کرتے تھے۔ یونانی زبان میں اسے ‘مالاکوپیاکہا جاتا تھا، جس کا تعلق لفظ مالاکوس (نرم) سے ہے، کیونکہ یہ پورا شہر آتش فشاں کی راکھ سے بنی نرم چٹانوں (Tuff) کو تراش کر بنایا گیا ہے۔ اس زیرِ زمین شہر کا دفاعی نظام اتنا مضبوط اور منظم تھا کہ اسے اندر سے پتھر کے بڑے اور وزنی گول دروازوں سے بند کیا جا سکتا تھا اور ہر منزل کو ضرورت پڑنے پر الگ سے سیل کرنے کی سہولت موجود تھی۔

اس قدیم زیرِ زمین شہر میں زندگی گزارنے کی تمام تر بنیادی سہولیات موجود تھیں، جن میں شراب اور تیل نکالنے کی پریس، مویشیوں کے اصطبل، غلہ دان، نان بائی کے لیے تندورسے لیس باورچی خانے اور عبادت گاہیں شامل ہیں۔ اس کی دوسری منزل پر محرابی چھت والا ایک بڑا کمرہ موجود ہے جو مذہبی تعلیم یا سکول کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ ہوا کی فراہمی کے لیے 55 میٹر گہرا مرکزی وینٹیلیشن شافٹ اور بے شمار ہوا دان بنائے گئے تھے، جن کا تعمیری ڈیزائن اس طرح سے تیار کیا گیا تھا کہ مختلف منزلوں کے سوراخ ایک دوسرے کے اوپر نہ آئیں اور ہوا کا بہاؤ بلاتعطل برقرار رہے۔

تاریخ دانوں کے مطابق ان غاروں کی ابتدائی کھدائی آٹھویں سے ساتویں صدی قبل مسیح میں فریجیئن قوم نے شروع کی تھی۔ بعد ازاں بازنطینی دور میں جب عرب-بازنطینی جنگیں (780ء تا 1180ء) چھڑیں تو اموی اور عباسی افواج کے حملوں سے بچنے کے لیے مقامی عیسائی آبادی نے اس شہر کو مزید وسعت دی اور سرنگوں کے ذریعے اسے قریب واقع دوسرے زیرِ زمین شہرکائمکلی سے ملا دیا۔ اس دور میں پناہ گزینوں کی تعداد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ بعد میں سلجوقی، منگول اور عثمانی ادوار میں بھی مقامی باشندے جنگوں اور حملوں کے وقت اسی پناہ گاہ کا رخ کرتے رہے۔ تیمور لنگ کے حملوں کے دوران بھی قیصریہ کے باشندوں نے ان زیرِ زمین مکانات میں پناہ لی تھی، جہاں ایک حملے کے دوران تیمور لنگ کا سردار تیر لگنے سے مارا گیا تھا۔

زیر زمین

خطرناک حالات میں ان زیرِ زمین شہروں کو پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کیے جانے کی واضح دلیل ان کا مقامی نام کاٹافیگیا (kataphygia) ہے۔ بیسویں صدی کے اوائل میں، 1909ء کے ادانہ فسادات کے دوران بھی آکسو کی مقامی آبادی نے ان زیرِ زمین کمروں میں پناہ لی اور کئی راتوں تک سطحِ زمین پر سونے سے گریز کیا۔ دسویں صدی کے مورخ لئیو دی ڈیکن کے مطابق، اس علاقے کے باشندوں کو غاروں اور بھول بھلیوں میں رہنے کی وجہ سےٹروگلوڈائٹس بھی کہا جاتا تھا۔

یہ علاقہ صدیوں تک ترک بولنے والے مسلمانوں اور یونانی بولنے والے عیسائیوں کی مخلوط آبادی کا مسکن رہا۔ تاہم، یکم مئی 1923ء کو ترکی اور یونان کے درمیان اقلیتی آبادی کے تبادلے (Population Exchange) کا معاہدہ شائع ہوا، جس نے دونوں ممالک کی متاثرہ اقلیتوں میں شدید صدمے کی لہر دوڑا دی۔ چند ماہ کے اندر لوگوں کو اپنے آباؤ اجداد کے گھر بار، مقدس مقامات اور جائیدادیں چھوڑ کر منتقل ہونا پڑا۔ کیپاڈوشیا کے یونانیوں کو بندرگاہوں کے ذریعے یونان بھیج دیا گیا، جس کے بعد یہ زیرِ زمین شہر مکمل طور پر ویران ہو گیا۔

1963ء میں ایک مقامی شہری کی جانب سے گھر کی مرمت کے دوران تہہ خانے کی دیوار ٹوٹنے سے یہ عظیم زیرِ زمین شہر دوبارہ دریافت ہوا، جہاں سے اب تک 600 سے زائد پراسرار راستے اور سرنگیں سامنے آ چکی ہیں۔ آج کیپاڈوشیا میں ان عیسائی باشندوں کے پرانے اور شاندار مکانات ہی ان کی ماضی کی موجودگی کی اخری اور خاموش گواہی کے طور پر قائم ہیں۔