کراچی(شوبز ڈیسک)پاکستانی سینئر اداکارہ صبا فیصل نے اپنے خاندان کی روایت کا مقاملہ دیگر پڑھے لکھے خاندانوں سے کر کے سب کی توجہ حاصل کرلی۔
پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے خبر نامہ پڑھنے سے کریئر کا آغاز کرنے والی اداکارہ صبا فیصل کے مشہور ڈراموں میں ‘در شہوار’ ، ‘باغی’ ، ‘ہمسفر’ ، ‘گھسی پٹی محبت’ ، ‘سرِ راہ’ ، ‘خدا اور محبت’ ، ‘حبس’ ، ‘کہیں دیپ جلے’ ، ‘خئی’ اور ‘ذرا یاد کر’ جیسے ڈرامے شامل ہیں۔
صبا فیصل اپنے شوہر کے ساتھ خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہی ہیں اور ان کی ایک بیٹی سعدیہ فیصلہ اور دو بیٹے ارسلان اور سلمان فیصل ہیں جن تینوں کی وہ شادی بھی کر چکی ہیں اور تینوں کا ہی تعلق شوبز انڈسٹری سے ہے۔
صبا فیصل کسی بھی انٹرویو میں شریک ہوں اور خاندانی نظام پر بات نہ ہو ایسا ہو نہیں سکتا۔ ان کی موجودگی میں ساس اور بہو کے رشتے کا ذکر چھڑنا بھی ایک لازمی سی بات ہے۔
صبا فیصل نے حال ہی میں ندا یاسر کے مارننگ شو میں شرکت کی جہاں انہوں پڑھے لکھے خاندانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ‘ہمارے خاندان میں سلام کرنا بہت اہمیت کا حامل ہے اور اگر کوئی اپنے بڑے کو سلام نہ کرے تو یہ ایک بہت بڑا مسئلہ بن جاتا ہے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘میری بڑی بہن کو یہ بات بہت بری لگتی ہے کہ کسی کے بچے انہیں سلام نہ کریں، دراصل ہمارے خاندان میں بچے بہت زیادہ ہیں اور زیادہ تر اپنے بڑوں کو سلام کرتے ہی ہیں لیکن کبھی کبھار اگر کوئی بچہ کسی کو سلام کرنا بھول جائے تو میری بڑی بہن بہت زیادہ برا مان جاتی ہیں، وہ اس بات کو یاد رکھتی ہیں اور پھر اگلی ملاقات میں اس کا ذکر لازمی کرتی ہیں’۔
صبح فیصل نے یہ بھی کہا کہ ‘میں اس بات کو نظر انداز کر دیتی ہوں لیکن میں یہ بھی دیکھتی ہوں کہ بہت سے پڑھے لکھے خاندان جو بے انتہا مہمان نواز ہیں، وہ آپس میں بہت ملتے جلتے ہیں لیکن وہ اپنے بڑوں کو سلام نہیں کرتے اور ان کو یہ بات بری بھی نہیں لگتی ان کے لیے یہ عام سی بات ہے’۔
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے صبا فیصل کے اس بیان پر ملے جلے تبصرے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ جہاں متعدد صبا فیصل کی اس نشاندہی کو سراہتے نظر آئے وہیں بعض کو ایسا بھی لگا کہ صبا فیصل بس اپنے خاندان کی تعریف کرنے کے چکر میں چھوٹی سچی باتیں کرتی رہتی ہیں۔









