لاہور(سپورٹس ڈیسک)ارشد ندیم نے پیرس اولمپکس میں گولڈ میڈل جیت کر پاکستان کا نام پوری دنیا میں بلند کردیا تھا۔
ارشد ندیم کی کامیابی پر حکومتی اور پرائیوٹ سیکٹر کی جانب سے بے شمار انعامات کا اعلان کیا گیا۔
جس پر ایک بات یہ بھی مشہور ہوئی کہ ارشد ندیم وہ واحد بندہ ہے جو کہہ سکتا ہے کہ اس مہنگائی کے دور میں اس کا ہاتھ تنگ نہیں۔
ایک انٹرویو میں ارشد ندیم کا کہنا تھا حکومت کی جانب سے جتنے بھی انعامات کا اعلان کیا تھا وہ مل گئے لیکن پرائیوٹ سیکٹر کی جانب سے جن انعامات کا اعلان کیا گیا ان میں سے ابھی بھی کچھ ملنا باقی ہیں اور کچھ مل گئے ہیں۔
ارشد ندیم نے کہا کہ مقابلہ شروع ہوتے ہی اندر سے فیلنگز بہت اچھی آرہی تھیں۔ تیاری بہت اچھی تھی۔ سیکنڈ تھرو میں اللہ نے پاکستان کو عزت دلوادی۔
میزبان کے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی کامیابی میں کوچ سلمان بٹ صاحب کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اس کے بعد پوری پاکستانی قوم پر کریڈٹ جاتا ہے جنہوں نے ان کے لیے دعائیں کی۔
ارشد ندیم کا کہنا تھا کہ ان کے بارے میں کچھ جھوٹی کہانیاں پھیلائی گئیں کہ وہ بہت کسمپرسی کی حالت میں تھےحالانکہ ایسا ہر گز نہیں تھا۔
نیرج چوپڑا سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اسپورٹس انسان کو بھائی چارا سکھاتی ہے۔ 2016 میں ایک مقابلے میں نیرج سے ملاقات ہوئی تھی۔ اس مقابلے میں نیرج نے گولڈ جبکہ میں نے برانز میڈل جیتا تھا۔ تب سے نیرج کے ساتھ دوستی ہوگئی۔
محبت سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا جو کارنامہ میں نے انجام دیا ہے اگر آج کل کی محبت کر بیٹھتا تو اس مقام پر نہ ہوتا۔ 2016 میں ہی شادی کرلی تھی اور پھر کامیابی کا سفر بھی شروع ہوگیا تھا۔
سیاست سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ وہ سیاست میں آنا نہیں چاہتے۔ ان کی تمام سیاست جیولن تھرو سے شروع اور وہیں پر ختم ہوتی ہے۔









