بالی ووڈ کے کنگ اداکار شاہ رخ خان کو دھمکی آمیز کال کرنے کے الزام میں بھارتی شہری فیضان خان کو چھتیس گڑھ کے علاقے رائے پور سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔
فیضان خان ایک وکیل ہے جس نے مبینہ طور پر شاہ رخ خان سے 50 لاکھ روپے ادا کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور عدم ادائیگی کی صورت میں انہیں نقصان پہنچانے کی دھمکی دی تھی۔
کال ٹریسنگ سے معلوم ہوا تھا کہ پولس کو یہ دھمکی آمیز کال چھتیس گڑھ کے علاقے رائے پور میں کسی فیضان خان نامی شخص کے فون سے موصول ہوئی تھی۔
پوچھ گچھ کے دوران فیضان خان نے دعویٰ کیا کہ ان کا فون 2 نومبر کو چوری ہو گیا تھا، اور انہوں نے اس چوری کی شکایت بھی درج کرائی تھی۔
فیضان خان نے دعویٰ کیا ہے کہ بالی وڈ اسٹار کو جان سے مارنے کی دھمکی کسی ایسے شخص نے دی تھی جس نے ان کے فون کا غلط استعمال کیا۔
اپنی بے گناہی پر اصرار کرتے ہوئے فیضان خان نے کہا کہ ان کا دھمکی آمیز کال سے کوئی تعلق نہیں اور ہو سکتا ہے کہ کوئی انہیں پھنسانے کی کوشش کر رہا ہو۔
ساتھ ہی انہوں نے شاہ رخ خان کے خلاف پہلے ایک شکایت بھی درج کرانے کا انکشاف کیا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ اداکار مذہبی گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دیتے ہیں۔
باندرہ پولیس اسٹیشن میں فیضان خان کیجانب سے درج کروائی گئی شکایت میں 1994 کی فلم ’انجام‘ کے ایک سین کا حوالہ دیا گیا تھا جس میں شاہ رخ خان کا کردار اپنے نوکر کو اپنی گاڑی میں ہرن کی لاش کے بارے میں مطلع کرتے ہوئے نظر آتا ہے۔
فیضان خان نے کہا تھا کہ وہ 14 نومبر کو ممبئی آ کر باندرہ پولیس کو اپنا بیان دیں گے، تاہم دھمکیاں ملنے کے سبب انہوں نے ممبئی پولیس کمشنر کو خط لکھا اور درخواست کی کہ سیکیورٹی خدشات کے سبب اُن کا آن لائن بیان ریکارڈ کرلیا جائے۔
تاہم ممبئی پولیس کے سامنے عدم پیشی پر فیضان خان کو آج رائے پور میں اُنکی رہائش گاہ سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ شاہ رخ خان کو گزشتہ سال اکتوبر میں بھی جان سے مارنے کی دھمکی موصول ہوئی تھی، جس کے بعد ان کی سیکیورٹی کو ‘وائے پلس’ لیول تک بڑھا دیا گیا تھا۔
جسکے بعد سے شاہ رخ خان کے ساتھ 6 مسلح سیکیورٹی اہلکار 24 گھنٹے موجود رہتے ہیں، اِس سے پہلے اُن کے ساتھ 2 مسلح سکیورٹی اہلکار موجود رہتے تھے۔
شاہ رخ خان کو یہ تازہ دھمکی ایسے وقت میں موصول ہوئی ہے جب بھارتی سیاستدان بابا صدیقی کے قتل کے بعد سے اداکار سلمان خان کو بشنوئی گینگ کیجانب سے متواتر جان لیوا دھمکیاں موصول ہورہی ہیں۔
بشنوئی گینگ کے سلمان خان سے تنازع کا سرا 1998 کے ایک واقعے سے ملتا ہے جس میں سلمان خان نے مبینہ طور پر 2 کالے ہرن کا شکار کر کے انہیں ہلاک کر دیا تھا، یہ نسل بشنوئی برادری کے لیے مقدس سمجھی جاتی ہے۔









