بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

2024 پاکستان کے لیے معاشی میدان میں اہم کامیابیوں کاسال رہا

اسلام آباد(طارق محمودسمیر) سال 2024 پاکستان کے لیے کئی حوالوں سے بہت اہم ثابت ہوا،اس سال فروری میں کے عام انتخابات کاانعقاد ممکن ہواجوکئی ماہ سے زیرالتواء تھے ،انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ ن کی سربراہی میں ایک بارپھر اتحادی حکومت قائم ہوئی اور ملک میں جاری سیاسی افراتفری اور کشیدگی کا خاتمہ ہوا،اگرچہ حسب روایت انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگے اوراس آڑمیں اپوزیشن جماعتوں خصوصاً پی ٹی آئی کی طرف سے احتجاجی سیاست کا آغازکیاگیا اور اسلام آباد پر لشکرکشی بھی کئی گئی لیکن وہ حکومت کو کوئی ٹف ٹائم دینے میں ناکام رہی ،حال ہی میں پی ٹی آئی اور حکمران اتحاد میں مذاکرات آغاز ہوا ہے، امیدہے کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کامیابی سے ہمکنارہوں گے اور ملک کو دیرپاسیاسی استحکام نصیب ہوگاجو ملک کودرپیش چیلنجزسے عہدہ برآہونے کے لیے ناگزیرہے ،خصوصاًمعیشت کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کا ایک پیج پر آناضرور ی ہے تاکہ پالیسیوںپر مؤثرعملدرآمداور ان کا تسلسل یقینی بنایاجاسکے۔2024 میں پاکستان کو معاشی میدان میں اہم کامیابیاں نصیب ہوئیں،معیشت کوبحران سے نکالنے کے حوالے سے حکومتی کوششیں ثمرآورثابت ہوئیں،آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے سات ارب ڈالر کے قرض پروگرام کی منظوری دی ، مرکزی بینک کی طرف سے پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی لائی گئی جو22فیصدسے کم ہو13فیصد پرآگئی ہے،ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ہوا، ٹیکس وصولیوں میں بہتری آئی جب کہ ملکی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہورہاہے،ملک میں مہنگائی کاگراف توقع کے برعکس تیزی سے گراجو ا س وقت گزشتہ 6سال کی کم ترین سطح تقریباً پانچ فیصد پر ہے، 2024 میں ریکارڈ نوعیت کی تیزی کے ساتھ پاکستان سٹاک مارکیٹ نے دنیا کی دوسری بہترین سٹاک مارکیٹ بنے کا اعزاز حاصل کیا ،سٹاک مارکیٹ نے  نہ صرف تاریخی سنگ میل عبور کیے بلکہ سرمایہ کاری کرنے والوں کو بھاری منافع دیتے ہوئے تاریخی کامیابیوں کا ایک سالہ سفر مکمل کیا،کیپیٹل مارکیٹ کے سرمایہ کاروں کو 80فیصد ریٹرن دینے کا بھی ریکارڈ قائم ہوا اور تاریخ میں پہلی بار ایک لاکھ پوائنٹس کا سنگ میل بھی عبور ہوا ،اسی طرح حکومت کی طرف سے توانائی کے شعبے میں اہم اصلاحات کا آغاز کیاگیا،ملک میں مہنگی بجلی کا باعث آئی پی پیزکے ساتھ معاہدے معاہدوں پر نظرثانی کے لیے بات چیت شروع کی گئی اور اس کے نتیجے میں 5 آئی پی پیز کے ساتھ ختم کئے گئے ، میانوالی میں چین کے تعاون سے ملک کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز ہوا جوہری بجلی گھر چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ یونٹ 5 کی تعمیر 2030 میں مکمل ہوگی جس سے 1200میگاوٹ بجلی پیدا ہوگی ،   علاوہ ازیں 2024 کے آخری روز وزیراعظم شہبازشریف نے وزارت منصوبہ بندی کے نئے پانچ سالہ معاشی پلان اڑان پاکستان کا اجراء کیا،تقریب میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازبھی شریک تھیں تاہم دیگرصوبوں کے وزرائے اعلیٰ دعوت کے باوجود شریک نہیں ہوئے ،علی امین گنڈاپورکی نمائندگی صوبائی مشیرخزانہ مزمل اسلم ،سندھ کے وزیراعلیٰ مرادعلی شاہ کی نمائندگی صوبائی وزیرناصرشاہ نے کی جب کہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ خود نہ آئے اور نہ ہی صوبائی وزیربھیجا،گورنربلوچستان جعفر مندوخیل نے صوبے کی نمائندگی کی ،وزیراعظم آزادکشمیربھی موجودتھے،تقریب میں وزیرخارجہ اسحاق ڈار، وزیرخزانہ سینیٹراورنگزیب اوروزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال حکومت کی معاشی کامیابیوں اور ماضی کے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کے حوالے سے اعدادوشماربیان کئے،وزیراعظم شہبازشریف نے اپنے خطاب میں سب سے اہم دوباتیں کی ہیں ایک یہ کہ اسٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ مزید8فیصدتک کم کیاجاسکتاہے لیکن اس میں اسٹیٹ بینک کی خودمختاری بڑی رکاوٹ ہے دوسرا انہوں نے آئی پی پیز کے معاملے میں کسی قسم کا دباوقبول نہ کرنے کااعلان کیااوروزیرتوانائی سے کہاکہ سولرپالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جائے گی ،حکومت کی معاشی پالیسی بہترہے حالات بھی بہترہوئے ہیں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق مہنگائی پانچ فیصدتک آگئی ہے لیکن مارکیٹ میں ایسانہیں ہے اور وزیرخزانہ خودبھی اس بات کا اعتراف کرچکے ہیںکہ مہنگائی کم ہونے کے فوائدصحیح معنوں تک عوام تک نہیں پہنچ سکے اور اس کے لیے مڈل مین کا کرداربہت بھیانک ہے اگرشہبازشریف حکومت اس معاملے پر خصوصی توجہ دے توعوام کو ریلیف مل سکتاہے۔