ملتان(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بروقت فیصلے نہ کرنے کی وجہ سے جس طرح معیشت متاثر ہو رہی ہے اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر گرتی جا رہی ہے تو یہ بیرونی عوامل کے برعکس ہے،جب ملک کا پیسہ منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر بھیجا جاتا رہے گا اور اپنی تجوریاں بھری جاتی رہیں گی تو اس کو بین الاقوامی عوامل سے نہیں، ملک کے اندر جاری چور بازاری سے تعبیر کیا جائے گا، اگر آپ بیرونی قرضے لیتے رہیں گے اور اس رقم کو درست انداز میں خرچ کرنے کی بجائے، ٹھیکیداروں اور کمیشن مافیاز کی نذر کرتے رہیں گے تو یہ بیرونی نہیں مقامی فیکٹر کہلائے گا، اگر ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار رہے گا تو معیشت پر مزید برے اثرات مرتب ہوں گے،امپورٹڈ حکمرانوں نے بیرونی اشاروں پر، عجلت میں عدم اعتماد کے ذریعے حکومت تو سنبھال لی لیکن ان کے پاس معیشت کو سنبھالنے کا کوئی ایکشن پلان نہیں ہے، جن کے پاس ملکی معیشت سنبھالنے کا کوئی منصوبہ نہیں وہ امور مملکت کیسے چلائیں گے۔
ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز موضع سیتل ماڑی میں ملک مظہر ارائیں کی جانب سے دیئے گئے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا دو ماہ میں ملک میں مہنگائی کا طوفان آگیا ہے۔ کبھی آپ نے دیکھا کہ 18 دنوں میں پٹرول کی قیمت 84 روپے اور ڈیزل کی قیمت 115 روپے تک بڑھا دی گئی ہو؟جب گیس کی قیمت 45 فیصد اور بجلی کی قیمت دس روپے فی یونٹ تک بڑھا دی جائے گی تو کیا اس سے معیشت کا پہیہ چلے گا اور کیا زراعت کا شعبہ ترقی کر سکے گا؟،جب حکومت بجٹ میں غیر حقیقی اور فرضی اعداد و شمار دے گی تو عوام اسے کیسے قبول کریں گے،کبھی انہوں نے سوچا کہ کیا عوام میں ان فیصلوں کو برداشت کرنے کی سکت ہے جو یہ جلدبازی میں اٹھا رہے ہیں، بلاول صاحب پہلے تو بڑے جوش و خروش سے مہنگائی مکاؤ مارچ لے کر آئے تھے آج وہ مہنگائی کے خلاف خاموش کیوں ہو گئے ہیں، ہمیں علم ہے کہ وہ سب ایک ڈرامہ تھا اور ہماری حکومت پر شب خون مارنے کیلئے ترتیب دیا گیا تھا، خرم دستگیر صاحب خود اعتراف کر چکے ہیں کہ اگر ہم یہ سب نہ کرتے تو جیلوں میں ہوتے یا نااہل ہو کر گھروں میں بیٹھے ہوتے، عوام باشعور ہیں وہ ان کی لفاظی کو ماننے کیلئے قطعاً تیار نہیں – وہ جانتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے، انہوں نے کہا عمران خان واحد لیڈر کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ جنہیں اقتدار سے باہر نکلنے کے بعد عوام میں بھر پور پذیرائی ملی ہے۔ عوام نے عمران خان کے بیانیہ کو تسلیم کیا ہے۔ اس وقت پاکستان کی مقبول ترین سیاسی جماعت تحریک انصاف ہے۔ امپورٹڈ حکمران الیکشن سے کیوں گھبرا رہے ہیں۔ آج الیکشن کا اعلان کریں۔ 11جماعتوں کے ٹولوں کو اپنی مقبولیت کا پتہ لگ جائے گا۔عوام آج بھی عمران خان کے ساتھ ہیں۔ یہ لوگ پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ عوام عمران خان کے ساتھ نہیں۔ اگر عوام ہمارے ساتھ نہیں ہیں تو گرمی کی اس شدت میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ عمران خان کے جلسوں میں کیسے شریک ہو رہے ہیں؟اگر عوام کی حمایت نہیں ہے تو عمران خان کا بیانیہ غالب کیسے آ گیا ہے، انہوں نے کہا نیب کے اوپن اینڈ شٹ کیسز ان کے خلاف تھے جو ہماری حکومت نے نہیں بنائے تھے آج اسی خوف کے باعث انہوں نے نیب کو دفن کر دیا ہے،نیب کے خاتمے کا اصل مقصد دراصل انہیں اپنی گرفت کا خوف کھائے جا رہا تھا، انہوں نے کہا ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے ہماری حکومت کے اقدامات قابل ستائش تھے۔ ہم نے منی لانڈرنگ اور انسداد دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھائے، اور اس کا اعتراف فیٹف کے حالیہ اجلاس میں کیا گیا کہ پاکستان نے تمام اہداف پر پیش رفت کامیابی کے ساتھ مکمل کی ہے، میں اس پر ان تمام شخصیات اور اداروں کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں جنہوں نے اس حوالے سے ہمارے ساتھ بھرپور تعاون کیا،حیران کن بات یہ ہے کہ آج وزیر اعظم کس طرح بلاول کوایف اے ٹی ایف کے حوالے سے مبارکباد دے رہے ہیں جبکہ بلاول نے تو ایف اے ٹی ایف پر قانونی سازی کی مخالفت کی تھی اور اس حوالے سے قانون سازی کے دوران واک آؤٹ کیا تھا، قابلِ افسوس بات یہ ہے کہ جن کا پوری داستان میں ذکر نہیں تھا وہ آج کریڈٹ لینے کیلئے بیتاب دکھائی دے رہے ہیں، انہوں نے کہا ضمنی انتخابات کے حوالے سے آج ہم ایک بار پھر عوام کی عدالت میں پیش ہیں۔ ہمارا دامن صاف‘ کرپشن کے کوئی الزام نہیں‘ ساڑھے تین سال تمام وسائل نیک نیتی سے عوامی ترقی پر خرچ کئے۔ این اے 156 میں نے اور زین حسین قریشی نے این اے 157 میں بھر پور ترقیاتی کام کروائے ہیں جن کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ ہمارے مد مقابل شخصیات نے دونوں حلقوں میں قابل ذکر ترقیاتی کام کروائے ہیں تو سامنے لائیں۔ انہوں نے کہا ایک طرف زین حسین قریشی دوسری طرف منحرف لوٹا ہے۔ زین حسین قریشی نے عمران خان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر وفا ء کی لاج رکھی۔ مد مقابل نوٹوں کی چمک سے لوٹا بنا۔ جس کی وجہ سے آج پی پی 217 میں انتخاب ہونے جا رہا ہے۔ فیصلہ اب پی پی 217 کی غیور عوام نے کرنا ہے۔تقریب سے اراکین صوبائی اسمبلی ڈاکٹر اختر ملک‘ واصف مظہر راں‘ میزبان ودیگر شخصیات نے خطاب کیا









