وزیرخزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے چینی کی قیمتوں سے متعلق سوال کا جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہےکہ کوئی ایونٹ ہوتا ہے تو قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آتا ہے، گندم اور چینی کو ڈی ریگولیٹ کردینا چاہئے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران صحافی نے سوال کیا کہ چینی کی قیمت کیوں 200 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے؟ جس پر وزیر خزانہ نے جواب دیا کہ چینی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ معمول کی بات ہے۔ چیزوں کو ریگولیٹ کرنا ہوگا۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ معیشت بہتر ہورہی ہے، حکومتی اخراجات میں کمی کی گئی، مالی گنجائش کے مطابق تنخواہ داروں کو ریلیف دے چکے، نوکری پیشہ افراد کے ٹیکس میں کمی کرنے کی کوشش کریں گے۔ ٹیکس ریٹرن فارم کو سادہ بنایا جارہا ہے۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ بنیادی غذائی اشیا کی قیمتوں کو ماہانہ بنیادوں پر مانیٹر کر رہے ہیں، فارما انڈسٹری زبردست کارکردگی دکھارہی ہے، پراپرٹی اور کنسٹرکشن فنانسنگ میں بینک نہیں ہیں، چھوٹے اور پہلی باربننے والے گھروں پرسبسڈی بجٹ کاحصہ ہے، مورگیج فنانسنگ کے لیے بینکوں سے بات ہوئی۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ بجٹ میں ٹرانزیکشن ٹیکسز میں نارملائزیشن لانے کی کوشش کی، سیلزٹیکس میں فراڈ روکنے کیلئے جدید اقدامات کیے گئے ہیں، کمزور اداروں کو مضبوط کرنےمیں بینکنگ سیکٹر کو کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ٹیرف کا پورے 5 سال کا منصوبہ دے دیا ہے، جن چیزوں کو ڈی ریگولیٹ کرنا چاہتے ہیں،انہیں ڈی ریگولیٹ کردینا چاہیے، مقامی اوربین الاقوامی سرمایہ کاروں کو ساتھ لے کرچل رہے ہیں۔ حکومت کےدانشمندانہ اقدامات سےمعیشت مستحکم ہورہی ہے۔
وزیرخزانہ کے مطابق تاجروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پرحل کررہے ہیں، ایس ایم ایز کی فنانسنگ بڑھارہے ہیں، بینک سرمایہ کاروں سے مل کرصنعتیں بحال کریں، بیمار شعبوں کی بحالی میں بینک اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
وزیرخزانہ کا چینی کی قیمتوں سے متعلق سوال کا جواب دینے سے گریز








