سری لنکا کے سابق صدر انیل وکرما سنگھے کو مبینہ بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ۔ پولیس حکام نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان پر سرکاری فنڈز کے ذاتی استعمال کی تحقیقات جاری ہیں اور انہیں عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔
لندن کا دورہ، سرکاری خرچ؟
76 سالہ وکرما سنگھے پر الزام ہے کہ انہوں نے 2023 میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ لندن کا نجی دورہ کیا، جو دراصل ان کی اہلیہ کی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے تھا۔ یہ دورہ انہوں نے کیوبا میں جی-77 سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد واپسی کے دوران کیا، اور الزام ہے کہ اس نجی سفر کے لیے ریاستی وسائل استعمال کیے گئے۔
دفتر کی تردید مگر پولیس کا الگ مؤقف
سابق صدر کے دفتر نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور مؤقف اختیار کیا کہ تمام اخراجات رانیل وکرما سنگھے نے ذاتی طور پر برداشت کیے تھے۔ تاہم کرمنل انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا کہنا ہے کہ لندن میں قیام کے دوران صدر اور ان کے باڈی گارڈز کے اخراجات سرکاری خزانے سے ادا کیے گئے۔
پولیس کے مطابق اس کیس میں وکرما سنگھے کے تین قریبی سابق مشیروں سے بھی پوچھ گچھ کی گئی، جب کہ شواہد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سابق صدر اور ان کی اہلیہ نے برطانیہ کی ایک یونیورسٹی کی گریجویشن تقریب میں شرکت کی تھی۔
معاشی بحران اور سیاسی اتار چڑھاؤ
یاد رہے کہ رانیل وکرما سنگھے جولائی 2022 میں اس وقت ملک کے صدر بنے تھے جب ملک گیر عوامی احتجاج کے نتیجے میں گوتابایا راجاپاکسا مستعفی ہو گئے تھے۔ صدارت کے دوران انہوں نے ملک کو بدترین معاشی بحران سے نکالنے کی کوشش کی اور آئی ایم ایف سے 2.9 ارب ڈالر کا بیل آؤٹ پیکج حاصل کیا، جس سے معیشت کو کچھ حد تک سنبھالا ملا۔
تاہم 2024 کے عام انتخابات میں وہ اقتدار سے باہر ہو گئے، ان کے بعد منتخب ہونے والے صدر انورا کمارا دسانایکے نے برسراقتدار آتے ہی انسداد بدعنوانی مہم کا آغاز کیا، جس کے تحت یہ تازہ کارروائی عمل میں آئی ہے۔
سابق سری لنکن صدر رانیل وکرما سنگھے کرپشن الزامات پر گرفتار








