بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

مغربی افریقہ کے ساحل پر تارکینِ وطن کی کشتی ڈوبنے سے 70 ہلاکتیں، 30 لاپتہ

بانجول/ایتھنز (نیوز ڈیسک)مغربی افریقہ کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی ایک کشتی ڈوبنے سے کم از کم 70 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ 30 سے زائد لاپتہ ہیں۔ حادثہ بدھ کی صبح پیش آیا جب کشتی گیمبیا سے روانہ ہوئی تھی۔ اس میں زیادہ تر گیمبیا اور سینیگال کے شہری سوار تھے۔

گیمبیا کی وزارتِ خارجہ کے مطابق کشتی میں تقریباً 150 مسافر موجود تھے جن میں سے صرف 16 افراد کو زندہ بچایا جاسکا۔ موریطانیہ کی ریسکیو ٹیموں نے بدھ اور جمعرات کو 70 لاشیں نکال لیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 100 سے زیادہ ہوسکتی ہے۔

یہ کشتی یورپ پہنچنے کے لیے خطرناک اٹلانٹک مائیگریشن روٹ پر رواں دواں تھی، جو افریقہ سے اسپین کے کینری آئی لینڈز تک جاتا ہے۔ یورپی یونین کے مطابق گزشتہ سال 46 ہزار سے زائد غیر قانونی تارکین وطن کینری آئی لینڈز پہنچے، جبکہ 10 ہزار افراد اس سفر میں ہلاک ہوئے۔ یہ تعداد 2023 کے مقابلے میں 58 فیصد زیادہ ہے۔

گیمبیا کی حکومت نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ غیر محفوظ ہجرتی راستوں سے گریز کریں۔

دوسری جانب یونان کے جزیرے رھوڈس کے ساحل پر ہفتے کی صبح ایک مرد اور ایک کمسن بچی کی لاش ملی۔ بتایا گیا ہے کہ یہ دونوں افراد ایک سمگلروں کی کشتی پر سوار تھے جو انہیں ساحل کے قریب چھوڑ کر واپس کھلے سمندر کی طرف چلی گئی۔ باقی دس مسافر ساحل تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔

یونانی کوسٹ گارڈ نے مزید 38 تارکین وطن کو قریبی علاقے سے گرفتار کیا۔ اس طرح مجموعی طور پر 41 افراد کو ریسکیو کیا گیا۔ تمام زندہ بچ جانے والوں کو حکام کے حوالے کردیا گیا ہے جبکہ لاشوں کو رھوڈس جنرل اسپتال منتقل کردیا گیا۔

یونانی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ شمالی افریقہ سے سمندر کے راستے آنے والے تارکین وطن کی پناہ گزینی کی درخواستوں کو تین ماہ کے لیے معطل کیا جا رہا ہے۔