لاہور(نیوز ڈیسک)اسرائیلی جنگی طیاروں نے قطر میں مبینہ طور پر حماس کے مرکز کو نشانہ بنایا اور بحفاظت واپس لوٹ گئے، جبکہ قطر کا دفاعی نظام اور نئی فورسز کوئی کردار ادا نہ کر سکیں۔ اس حملے کے بعد سوال اٹھنے لگا ہے کہ کیا قطر کو پہلے سے اس کارروائی کا علم تھا یا نہیں؟
تجزیہ کار عامر رضا نے گفتگو میں کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ قطر کو حملے کا پہلے سے علم تھا۔ ان کے مطابق قطر ہمیشہ مذاکرات کی میزبانی کرتا رہا ہے، چاہے وہ پاکستان اور افغانستان کے ہوں یا روس کے ساتھ۔ “اگر کوئی یہ سمجھے کہ قطر اس حملے میں شریک تھا تو یہ دجالی نظام کے پھیلائے گئے پروپیگنڈے کے سوا کچھ نہیں۔”
انہوں نے کہا کہ قطر اور خلیجی ریاستوں کے دفاعی نظام مکمل طور پر امریکہ کے کنٹرول میں ہیں۔ ریڈار، میزائل، فضائی اڈے اور اسلحہ—سب امریکی نگرانی میں ہے۔ ایسے میں یہ ماننا کہ امریکی ریڈار کو حملے کی خبر نہ تھی، ایک “سفید جھوٹ” ہے۔
عامر رضا کے مطابق یہ حملہ خطے میں امن کے لیے سنگین خطرہ ہے، کیونکہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیل نے نہ صرف قطر بلکہ دیگر اسلامی رہنماؤں اور اہداف کو بھی نشانہ بنایا۔ “یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلم دنیا کے دشمن متحد ہیں جبکہ مسلمان ممالک اندرونی سرحدوں میں بٹے ہوئے ہیں۔”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کو امریکی ہتھیار کسی بھی ملک کے خلاف استعمال کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے، جبکہ عرب ممالک کو دیے گئے ہتھیاروں پر یہ شرط عائد ہے کہ وہ انہیں اسرائیل کے خلاف استعمال نہیں کر سکتے۔ “یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک باکسر کے ہاتھ باندھ دیے جائیں اور دوسرے کو کھلا چھوڑ دیا جائے۔”
تجزیہ کاروں کے مطابق قطر پر یہ حملہ خطے میں نئی کشیدگی کو جنم دے سکتا ہے، خصوصاً اس وقت جب قطر مذاکرات اور ثالثی کے لیے ہمیشہ مرکزی کردار ادا کرتا آیا ہے









