لبنانی صدر جوزف عون نے ملک کی فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں اسرائیل کی کسی بھی دراندازی کا سختی سے مقابلہ کرے۔
عرب میڈیا کے مطابق، گزشتہ چند روز سے اسرائیلی افواج مسلسل لبنانی سرزمین پر حملے کر رہی ہیں اور نومبر کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ عام طور پر لبنانی فوج حزب اللہ کی طرح براہِ راست اسرائیل کے خلاف لڑائی میں حصہ نہیں لیتی، لیکن صدر عون نے حالیہ اسرائیلی جارحیت کے بعد صبر کا دامن چھوڑ دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق حزب اللہ نے بھی صدر کے احکامات کا خیر مقدم کیا ہے۔
یہ حکم اس واقعے کے چند گھنٹے بعد آیا جب اسرائیلی فوجیوں نے سرحدی قصبے بلیدا میں دراندازی کرتے ہوئے ٹاؤن ہال پر حملہ کیا اور وہاں سوتے ہوئے بلدیاتی اہلکار ابراہیم سلامہ کو شہید کر دیا۔
لبنانی سرکاری خبر رساں ایجنسی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق، یہ چھاپہ کئی گھنٹے جاری رہا اور اسرائیلی فوج طلوعِ آفتاب کے وقت علاقے سے واپس چلی گئی۔
اسرائیلی فوج نے رات کے وقت بلیدا میں کارروائی کی تصدیق کی ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے “فوری خطرہ” محسوس کرنے پر فائرنگ کی۔ اسرائیلی بیان کے مطابق، یہ کارروائی حزب اللہ کے زیر استعمال انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کے لیے کی گئی تھی۔
لبنان: صدر عون نے فوج کو اسرائیلی دراندازی کا بھرپور جواب دینے کا حکم دے دیا








