تہران(انٹرنیشنل ڈیسک)ایران میں جاسوسی کے الزام میں کئی غیر ملکی سفارت کاروں کو گرفتار کرنے کی غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روائٹرز نے ایران کے ٹی وی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ متعدد غیر ملکیوں کو اور برطانوی سفارت کار کو مبینہ جاسوسی کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔
تاہم برطانوی حکومت نے ایسی کسی بھی قسم کی گرفتاری کی تردید کی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ غیر ملکی سفارت کاروں کو ایران کے پاسداران انقلاب نے تہران سے گرفتار کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق گرفتار افراد ایران کے وسطی صحرا میں واقع ممنوعہ علاقے میں زمین سے مٹی کے نمونے لے کر رہے تھے، یہ علاقہ پاسداران انقلاب کے زیر کنٹرول ہے جہاں ایئرو اسپیس میزائل ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ برطانیہ کے سب سے سینیر ایلچی سمیت متعدد غیر ملکیوں کو جاسوسی کی مبینہ کارروائیوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
تاہم رپورٹس سے یہ واضح نہیں کہ ان تمام افراد کو کب اور کیسے گرفتار کیا گیا، کیا یہ لوگ ابھی بھی گرفتار ہیں یا سب کو الگ الگ کیا ایک ساتھ گرفتار کیا گیا ہے۔
ایران کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ وسطی ایران میں برطانوی ڈپٹی سفارت کار جائلز وائٹیکر اور ان کے خاندان کی فوٹیج ہمارے پاس موجود ہے جس میں برطانوی سفارت کار کو زمینی نمونے لیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
ٹی وی نے کہا کہ یہ ایک ایسے علاقے کے قریب تھا جہاں گارڈز کی طرف سے میزائل کا تجربہ کیا جا رہا تھا۔ برطانوی سفارت کار وائٹیکر کو (حکام سے) معافی مانگنے کے بعد شہر سے نکال دیا گیا،“ ٹی وی رپورٹ میں کہا گیا۔
دوسری جانب برطانیہ سینیر ایلچی کی گرفتاری سے متعلق رپورٹس کی سخت سے تردید کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر غلط قرار دیا ہے۔
برطانیہ کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران میں برطانوی سفارت کار کی گرفتاری کی خبریں مکمل طور پر غلط ہیں۔
ایرانی نیوز ایجنسی فارس کے مطابق مذکورہ برطانوی سفارت کار اس سے قبل برطانوی فوج میں طویل عرصے تک خدمات انجام دے چکے ہیں۔ جب کہ دعویٰ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران میں تعینات آسٹریا کے ثقافتی اتاشی کے شوہر اور پولش یونیورسٹی کے پروفیسر کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔









