بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ایم ایل-ون کراچی روہڑی سیکشن پر کام 2026 میں شروع، سکھرحیدرآباد موٹروے ترجیحی منصوبہ قرار

وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال نے بتایا ہے کہ مین لائن-ون (ایم ایل-ون) کراچی روہڑی سیکشن پر کام جولائی 2026 سے متوقع ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سکھرحیدرآباد موٹروے کو تین سالوں میں مکمل کیا جائے اور اسے سب سے زیادہ ترجیحی منصوبہ قرار دیا جائے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر نے ریلوے، ہائی ویز اور پانی کے شعبوں کے اہم پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) منصوبوں کا جائزہ لیا۔ متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی گئی کہ منصوبوں کی بروقت تکمیل، معیار کی یقین دہانی اور اگلے تین سال کے لیے حقیقت پسندانہ مالی منصوبہ بندی کو ترجیح دی جائے تاکہ قومی سطح پر اہم انفراسٹرکچر کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
ریلوے کے شعبے میں ایم ایل-ون کے علاوہ مین لائن-تھری (ایم ایل-تھری) کے 884 کلومیٹر اپ گریڈیشن اور تھر کول ریلوے کنیکٹیویٹی پراجیکٹ کا بھی جائزہ لیا گیا۔ تھر کول پروجیکٹ کی کل تخمینی لاگت 53.7 ارب روپے ہے اور یہ تین پیکجز پر مشتمل ہے، جس میں نئی سنگل ٹریک اور ڈبل ٹریک لائنز کے علاوہ پورٹ قاسم اور لکھڑا پاور پلانٹ اسٹیشن پر کوئلہ ان لوڈنگ پٹ کی تعمیر شامل ہے۔ منصوبے کی تکمیل جون 2026 تک متوقع ہے۔
پروفیسر احسن اقبال نے وزارت ریلوے کو ہدایت کی کہ وہ اگلے تین سالوں کے لیے فنڈنگ کا واضح منصوبہ تیار کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ ان اسٹریٹجک منصوبوں میں رفتار اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو، کیونکہ یہ طویل مدتی قومی اثاثے ہیں۔
این ایچ اے کے تحت 71 منصوبوں پر مشتمل پورٹ فولیو کا بھی جائزہ لیا گیا، جس کی کل لاگت تقریباً 3,407 ارب روپے ہے۔ وفاقی وزیر نے قراقرم ہائی وے (کے کے ایچ) فیز 2 کے کام کو تیز کرنے اور 2028 تک مکمل کرنے کی ہدایت دی تاکہ دیامر بھاشا ڈیم کی وجہ سے کسی ممکنہ رکاوٹ سے بچا جا سکے۔
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) فریم ورک کے تحت سمبریالکھاریاںراولپنڈی موٹروے، بلوچستان میں ایم-8 اور مشکیل پنجگورچاغی روڈ منصوبوں کو اعلیٰ ترجیحی اقدامات قرار دیا گیا اور ان کی تیز رفتار عملدرآمد پر زور دیا گیا۔ وفاقی وزیر نے این ایچ اے کو ہر منصوبے کی تفصیلی مانیٹرنگ اور پندرہ روز بعد پیشرفت کی رپورٹس جمع کروانے کی ہدایت بھی کی تاکہ بروقت مسائل کی نشاندہی اور حل ممکن ہو۔
پانی کے شعبے میں 34 اہم منصوبے زیر غور آئے، جن میں داسو ہائیڈرو پاور، دیامر بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم، چشمیہ رائٹ بینک کینال، تربیلا ففتھ ایکسٹینشن ہائیڈرو پاور پروجیکٹ اور کراچی کے لیے کے-فور واٹر سپلائی پراجیکٹ شامل ہیں۔ وفاقی وزیر نے سیکریٹری وزارت واٹر ریسورسز کو ہدایت دی کہ ہر منصوبے کے لیے سالانہ فنڈنگ کی حد اور اگلے تین سال کی متوقع مالی ضروریات کی تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔
پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ پانی کی سیکیورٹی پاکستان کے معاشی استحکام اور موسمیاتی لچک کے لیے مرکزی اہمیت رکھتی ہے، اور ان منصوبوں کو بروقت مکمل کرنا ملک کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری ہے۔
اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر نے کہا کہ مربوط منصوبہ بندی، مالیاتی نظم و ضبط اور ادارہ جاتی کوآرڈینیشن کے ذریعے یہ سرمایہ کاری معاشی ترقی، علاقائی رابطے اور شہریوں کے معیار زندگی میں بہتری میں تبدیل ہوگی۔