ملتان(نیوزڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ملکی معیشت ڈانوڈول ہےاوربہت نازک صورتحال میں داخل ہوچکی ہے،جب معیشت بکھر جائے تو ملک بکھر جاتے ہیں،میں عوام سے کہتا ہوں کہ سنجیدگی سے سوچیں اور عمران خان کا ساتھ دیں۔عمران کی بات میں وزن ہو تو اس کا ساتھ دیں۔ملک اس وقت نئے معاشی بحران کی طرف بڑھ رہاہے جس کا موجودہ حکومت کے پاس کوئی حل نہیں ہے۔ آئی ایم ایف نے اب تک موجودہ حکومت کی کسی ایک تجویز کو بھی تسلیم نہیں کیا جس کی وجہ سے (افراط زر) مہنگائی کی شرح میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔ گورنر سٹیٹ بینک نے شرح سودمیں 1.25فیصد اضافہ کردیا ہے۔اس ریٹ آف انٹرسٹ میں کون سرمایہ کاری کرے گا۔گورنر سٹیٹ بینک کاکہنا ہے مہنگائی ایک سال برقرار رہے گی۔ گورنر سٹیٹ بینک کا یہ بیانیہ موجودہ حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ چھوٹے تاجروں کی تجارت اس لئے تباہ ہورہی ہے کہ عام آدمی کے پاس خریداری کی سقت نہیں ہے۔پی ٹی آئی نے اپنے حکومت کے دوران تاجروں سے مذاکرات کرکے ان کے مسائل حل کئے تھے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی تنظیم تاجران کے چیئرمین خواجہ سلیمان صدیقی کی جانب سے صوبائی حلقہ 217 کے امیدوار مخدومزادہ زین حسین قریشی کی حمایت میں تاجروں کے بڑے اجتماع سے خطا ب میں کیا۔ اس اجتماع سے سابق وفاقی وزیر علی محمد خان‘ سابق وزیر مملکت ملک عامر ڈوگر‘سندھ کے سابق ایم این اے آل پاکستان منیارٹی ونگ کے صدر جے پرکاش‘ پیپلز پارٹی کے رہنما ملک اسلم جاوید گنڈا پور‘ مسلم لیگ ن کے رہنما شہباز قریشی‘ مخدومزادہ زین حسین قریشی‘ میزبان خواجہ سلیمان صدیقی‘ شیخ جاوید‘ ڈاکٹر اختر ملک‘ حاجی جاوید اختر انصاری‘ رانا عبدالجبار‘ ملک عدنان ڈوگر‘ شیخ طاہر‘ میاں جمیل احمد‘شاہد محمود انصاری، میاں جمیل، رانا جبار،عثمان ڈوگر،شیخ طاہر،اکمل خان بلوچ،کاشف رفیق،مقبول قریشی،شہباز قریشی، سجاد سیال، ملک عمران قیوم بھٹہ، شیخ شفیق، شیخ شہزاد ا کرم،ناصر محمود چوہان، چوہدری شہباز،حاجی عبدالغفور، شیخ زاہد جمال سمیت تاجربرداری کی کثیر تعدا اس موقع پر موجود تھی۔مخدوم شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ معیشت آگے جارہی تھی لوگ گواہ ہیں تحریک انصاف کی حکومت کی درست پالیسیوں کی وجہ سے ٹیکسٹائل انڈسٹری میں جان آئی۔ کوئی نیا ٹیکس لگائے بغیر ہمارے پاس 6 ہزار ارب اکٹھا کیا گیا تھا۔آپ نے سپر ٹیکس لگایا ہے جس کے اثرات عوام پر ہوں گے گیس 45 فی صد مہنگی کی ہے۔10 روپے فی یونٹ بجلی پر بڑھادیا۔ جس سے مستقبل میں مزید مہنگائی ہوگی۔ حکومتی اقدمات کے سبب ہم پر پیشانیاں لاحق ہوچکی ہیں۔ موجودہ حالات میں غریب کے لئے دو وقت کی روٹی کمانا مشکل ہوگیا ہے۔ چھوٹے تاجر اور خاص طور پر پاور لومز بھی تباہ ہو رہی ہے۔ پی ٹی آئی نے کل بھی چھوٹے تاجروں کے حقوق کا دفاع کیا۔ آج بھی چھوٹے تاجروں کے حقوق کیلئے آوازبلند کررہے ہیں۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بجلی کے بحران پر قابو پانے کا حل 9 بجے دکانیں بند کروانا نہیں ہے۔ اگر وہ کام کرنا چاہتا ہے تو یہ فیصلہ تاجر کا ہونا چاہیے۔ اس وقت شہروں میں 8 سے 9 گھنٹے اور دیہاتوں میں 15‘15 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔پی پی ن لیگ کے پاس تجربہ کار لوگوں کی ٹیم تھی۔ پیپلزپارٹی اور ن لیگ والے دونوں مہنگائی کے خلاف نکلے تھے۔لیکن انہوں نے معیشت کو اس قدر تباہ کردیا ہے کہ اب آئی ایم ایف بھی ان تجاویز پر آمادگی کا اظہار کرنے پر تیار نہیں ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ لوڈشیڈنگ سے عوام اس قدر تنگ ہیں کہ اب مسلم لیگ ن کے سرگرم لوگ بھی احتجاج پر اتر آئے ہیں۔ آپ کی حکومت اور احتجاج بھی آپکے لوگ کررہے ہیں ملتان کا ہر چوک اس وقت سراپا احتجاج ہے۔میں عوام سے کہتا ہوں 17 تاریخ کو احتجاج کرواور بلے پر مہر لگاو۔اگر احتجاج کرنا ہے تو سترہ تاریخ کو شیر کو مسترد کر دیا جائے۔انہوں نے کہا لوگ ان کا چہرہ دیکھ کر نیند سے جاگ جاتے ہیں۔لوگ پریشان اور ملکی معیشت نازک دور میں داخل ہے۔انہوں نے کہا پاکستان اس وقت نئے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ موجودہ حکومت کے پاس اس کا کوئی حل نہیں ہے۔ اور نہ ہی ان کے پاس کوئی ایکشن پلان ہے۔ کیونکہ ان کے پاس عوامی مینڈیٹ نہیں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ فوری طور پر ملک میں صاف اور شفاف الیکشن کروائے جائیں اور عوام کے منتخب نمائندوں کو ان کا حق دیا جائے۔ صرف بااختیار لوگ ہی معیشت کو سنبھالا دے سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام تھا۔ ہم نے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا تھا۔ آنے والے وقتوں میں ملک میں مزید مہنگائی ہوگی کیونکہ یہ حکمران معیشت کی راہ ہموار نہیں کر پارہے۔ایک وقت تھا لوگ مشرقی پاکستان کو معیشت پر بوجھ کہتے تھے۔آج وہ ملک کتنی ویلیو پراڈکٹ بیچ رہے ہیں۔میں اس ملک کی مثال دے رہا ہوں جو اس ملک کا حصہ تھا۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 17 جولائی کو عوام بلے کے نشان پر مہر لگائیں۔ کیونکہ یہ الیکشن ملکی معیشت کے استحکام کا باعث ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک امیدوار کا نہیں یہ نظریہ کا الیکشن ہے۔ ملک کو بحران سے بچانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا مجھے احساس ہے کہ دباو کے باوجود تاجر برادری ہمارے ساتھ ہے۔ میری رائے میں آپ نے درست فیصلہ کیا۔ملک کو بحرانوں سے نکالنے میں تاجروں کوبھی اپنا کردار ادا کرنا ہوں گا۔ سابق وفاقی وزیر علی محمد خان نے کہا ملتان والے ووٹ کی پرچی سے غداروں اورلوٹوں سے اولیاء اللہ کی سرزمین کو پاک کریں گے۔ اور 17 جولائی کو عمران خان کی امانت واپس کریں گے۔ انہوں نے کہا اب لوٹوں کی جگہ اسمبلیوں میں نہیں ہے۔ سابق وزیر مملکت ملک عامر ڈوگر نے کہا کہ پیٹرول‘ ڈیزل اور اب کمرشل بجلی اس قدر مہنگی ہو چکی ہے کہ عوام کا جینا دوبر ہوگیا ہے۔ کھاد اس قدر مہنگی ہو گئی ہے کہ زراعت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ پی ٹی آئی کے دور میں میں نے اور مخدوم شاہ محمود قریشی نے خواجہ سلیمان صدیقی سمیت تمام تاجر نمائندوں سے وفاقی وزیر خزانہ و ایف بی آر کے نمائندوں سے مذاکرات کروائے۔ انہوں نے کہا موجودہ حکومت میں تاجروں پر تین ہزار روپے فی شٹر ٹیکس لگا دیا ہے۔ ہم نے اپنے دورمیں صرف ایک ہزار ٹیکس لگایا تھا۔ اور اس کی بھی واپس کی سفارش کی تھی۔انہوں نے کہا ملتان واحد شہرہے جہاں تاجروں کے دو بڑے گروپوں نے پی ٹی آئی کے امیدوار مخدومزادہ زین حسین قریشی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ جس سے ان کی کامیابی یقینی ہے۔ مخدومزادہ زین حسین قریشی نے کہا یہ نظریاتی الیکشن ہے۔ جس میں 217کے عوام کو ملک بچانے کیلئے ووٹ دینا ہوگا۔ امپورٹڈ حکومت نے دو ماہ میں معیشت تباہ کردی ہے۔ الیکشن کے ذریعے پنجاب میں حمزہ شہباز کی حکومت کو ختم کریں گے۔ اور بعد میں وفاقی حکومت کا صفایا کرکے ملک میں نئے انتخابات کے ذریعے عمران خان کو دوبارہ اقتدار میں لائیں گے۔ اور عمران خان ہی ملک میں آئندہ وزیراعظم ہونگے۔ میزبان خواجہ سلیمان صدیقی نے کہا تاجروں کو بلا وجہ جے ایس ٹی میں نہ الجھایا جائے۔ چھوٹے تاجر ان پڑھ ہیں۔ وہ ایف بی آر کے چکر نہیں کاٹ سکتے۔ شاہ محمود قریشی اور ملک عامر ڈوگر نے اپنے دور حکومت میں چھوٹے تاجروں کے ایف بی آر اور وزیر خزانہ سے نہ صرف مذاکرات کروائے بلکہ ہمارے مطالبات کی مکمل حمایت کا فیصلہ کیا۔ ہم نے ہمیشہ تاجروں کے مفاد کا تحفظ کیا ہے۔ ان رہنماؤں نے کیونکہ تاجروں کے اجمتاعی مفاد کیلئے ہمارا ساتھ دیا۔ اس لئے آج ہم نے بھی مخدومزادہ زین قریشی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ہم تاجروں کے مفاد کا سودا کرنے والے نہیں ہیں۔ اور جو تاجروں کا ساتھ دے گا ہم ان کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔ مرکزی تنظیم تاجران جنوبی پنجاب کے صدر شیخ جاوید اخترنے بھی اپنے حظاب میں پی پی 217 کے تاجروں کی جانب سے مخدومزادہ زین حسین قریشی کی مکمل حمایت اور تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
فوری طور پر ملک میں صاف اور شفاف الیکشن کروائے جائیں،شاہ محمود قریشی








