ٹوکیو(نیوز ڈیسک )سابق جاپانی وزیراعظم شنزو ابے کے قتل کی تحقیقات میں پیش رفت ہوئی ہے اور مشتبہ حملہ آور کے گھر سے بھی دیسی ساختہ اسلحہ برآمد ہوا ہے جبکہ اس نے دوران تفتیش جرم کا اعتراف کرلیا ہے۔
67 سالہ شنزو ابے جاپان کے مغربی شہر نارا میں خطاب کے دوران فائرنگ کے واقعے میں شدید زخمی ہوگئے تھے جس کے بعد انہیں تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جاں وہ جانبر نہ ہوسکے۔
خبر ایجنسی کے مطابق شنزو ابے پر حملے کے وقت فائرنگ کی آواز سنائی دی، شنزو ابے پر حملے کے فوری بعد ایک مشکوک شخص کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔
جاپانی حکام نے مشتبہ حملہ آور کی شناخت 41 سالہ تیتسویا یاماگامی کے نام سے ظاہر کی ہے جسے جائے وقوع پر شنزو ابے کے پیچھے چند قدم کے فاصلے پر کھڑا دیکھا جاسکتا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص یاماگامی نے دوران تفتیش سابق وزیراعظم پر فائر کرنے کا اعتراف کرلیا ہے، اس نے مزید بتایا کہ حملے کیلئے اس نے دیسی ساختہ بندوق استعمال کی۔
پولیس کے مطابق شنزو ابے کی موت مقامی وقت کے مطابق شام 5 بجکر 3 منٹ پر ہوئی جس کے بعد پولیس نے قتل کے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کیا، اس مقصد کیلئے 90 رکنی تحقیقاتی ٹاسک فورس تشکیل دے دی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق مشتبہ حملہ آور نے بتایا کہ اسے ایک ’مخصو ص تنظیم‘ سے رنجش اور غصہ تھا اور اس کا خیال تھا کہ شنزو ابے بھی اسی گروپ کا حصہ تھے اسی لیے اس نے ان پر گولی چلائی۔
صحافی کے اس سوال پر کہ حملہ آور کا مقصد شنزو ایبے کو جان سے مارنا تھا؟ پولیس نے کہا کہ یاماگامی نے صرف سابق وزیراعظم پر گولی چلانے کا اعتراف کیا ہے۔
پولیس نے یہ بھی بتایا کہ حملہ آور کے گھر سے متعدد دیسی ساختہ ہتھیار ملے ہیں اور اسی نوعیت کا ایک ہتھیار حملے میں بھی استعمال ہوا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس نے یہ بھی نہیں بتایا کہ جائے وقوع سے گولیاں برآمد ہوئی ہیں یا نہیں۔
اس سے قبل ڈاکٹرز بھی کہہ چکے ہیں کہ انہیں شنزو ابے کے جسم سے گولی نہیں ملی۔
پولیس حکام کے مطابق حملہ آور یاماگامی ٹرین کے ذریعے نارا شہر کے اس مقام تک پہنچا جہاں سابق وزیراعظم خطاب کرنے والے تھے۔
خیال رہے کہ جاپان میں یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب دو دن بعد ایوان بالا کے انتخابات ہونے ہیں۔ یہ انتخابات جاپان کے مستقبل کیلئے انتہائی اہم ہیں کیوں کہ جیتنے والی پارٹی آئندہ 6 برس تک ملک کی پالیسیاں ترتیب دے گی۔
شنزو ایبے جاپان کے سب سے زیادہ عرصے تک عہدے پر رہنے والے وزیراعظم تھے جو 2020 میں صحت کی خرابی کی وجہ سے عہدے سے الگ ہوگئے تھے۔
ان کی جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی انتخابات میں کامیابی کے بعد آئینی ترامیم کا ارادہ رکھتی ہے اور شنزو ابے بھی جارحانہ خارجہ پالیسی کے حامی تھے۔ ان آئینی ترامیم میں سب سے اہم آرٹیکل 9 ہے جو جاپان کے فوج نہ رکھنے اور جنگ میں شرکت کرنے سے متعلق ہے۔
سابق جاپانی وزیراعظم کا قتل: حملہ آور کے گھر سے کیا ملا اور اس نے پولیس کو کیا بتایا؟








