لاہور (نیوز ڈیسک )لاہور ہائیکورٹ میں اینکر پرسن عمران ریاض خان کی گرفتاری اور مقدمات کے اخراج کے لیے درخواست پر سماعت ہوئی۔
دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عمران ریاض کو بیان حلفی پر عید گھر گزارنے کی اجازت دینے پر رضامندی دیتے ہوئے کہا کہ کل عید ہے اور اگر یہ مجسٹریٹ کے سامنے پہلے ورکنگ ڈے پر پیش ہونے کی گارنٹی دیں، تو انہیں ضمانت پر رہا کر دیا جائے۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کا کہنا تھا کہ ہمیں عمران ریاض کی ضمانت پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا جس پر جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ عمران ریاض کو فوری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے۔
بعد ازاں دوبارہ سماعت پر سینئر صحافی عمران ریاض خان کو جسٹس علی باقر نجفی کے روبرو پیش کیا گیا۔ جسٹس علی باقر نجفی نے عمران ریاض سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ داڑھی کے ساتھ اچھے نہیں لگ رہے جس پر عمران ریاض نے جواب دیا کہ کل قربانی کے بعد کٹوا دوں گا۔
عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ آپ کے وکیل نے یقین دہانی کرائی ہے کہ آپ ایسا کوئی بیان نہیں دیں گے جس سے معاملات خراب ہوں جس پر عمران ریاض نے کہا کہ میں جس عدالت میں گیا ہوں وہاں انصاف ملا ہے اور میں بھی عدالت کو یقین دہانی کراتا ہوں، میں کوئی بیان نہیں دوں گا۔
جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ میں لمبا چوڑا آرڈر سوچ کر آیا تھا جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے عمران ریاض سے پوچھا کیا آپ کو ہتھکڑیاں تو نہیں لگیں جس پر انہوں نے جواب دیا کہ ہتھکڑیاں اُتر گئی ہیں۔
جسٹس علی باقر نجفی نے عمران ریاض کی چکوال کے مقدمے میں ضمانت منظور کر لی ، عمران ریاض کی شخصی مچلکوں پر ضمانت منظور کی گئی۔
لاہور ہائی کورٹ نے آئندہ ورکنگ ڈے پر اینکر پرسن عمران ریاض خان کو مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے ان کے رہائی کے احکامات جاری کردیے اور آخراج مقدمات پر کیس کی سماعت 19 جولائی تک ملتوی کردی۔
اس سے قبل عمران ریاض کے وکیل ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے کینٹ کچہری کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران ریاض پر ابھی تک 18 مقدمہ سامنے آئے ہیں ، اٹک کے بعد سول لائنز کا مقدمہ بھی خارج ہو گیا ہے ، عمران ریاض نے کوئی ایسا کوئی جرم نہیں کیا ، کہا جا رہا ہے کہ ان کا جرم ہے کہ امپورٹڈ حکومت کہا ہے یہ لفظ تو 16 کروڑ عوام کہہ رہی ہے ، امید ہے ہائی کورٹ سے بھی ضمانت ہو گی اور عمران ریاض عید گھر میں منائیں گے۔
لاہور ہائی کورٹ نے عمران ریاض خان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا








