ثقافت بھی عجیب مظہر ہے ۔ انسانی بستی پر اپنےخدوخال عیاں کرنے کے بعد اسے اپنی جستجو میں قریہ قریہ شناخت کی بھیک مانگنے کے لیے چھوڑ جاتی ہے۔ ایسی ہی کہانی پنجاب میں ثقافت کے سب سے بڑے ادارے کی ہے جہاں پر ثقافتی ا دارے میں کام کرنے والے خود اپنی شناخت سے محروم ہیں ۔ ایک محتاط اندازے اور معلومات کے مطابق پنجاب کے ثقافتی اداروں میں گزشتہ دو دہائیوں سے صرف ایک ملازم / افسر ایسا بھرتی ہوا جو کہ ثقافتی فہم کے ساتھ ساتھ اس کا طالب علم بھی رہا مگر نا ثقافتی اداروں نے اس کو دادو تحسین دی اور انا ہی بڑے ایوانوں نےثقافت کے معنی سمجھنےکی کوشش کی۔ یوں تو آئے روز تھیٹر اصلاح کے نام پر افسروں اور ملازموں کو دن رات جوتا گیا تاہم اس کا حاصل صرف ایوانوں میں دادو تحسین بٹورنے کے علاوہ کچھ نہ تھا۔معلوم فنکار برادری کی محرومیوں کو جانچنے کے لیے فیض عام کو مسند نشین کیا گیا۔ محرومیوں کے نام پر سرکاری وسائل سے امدادی چیک بمع فوٹو شوٹ اخباروں کی زینت بنے مگر مجال ہے کہ جب انہی اداروں میں سے کوئی گریڈ 19 کا افسر جبر کی فضا میں دم گھٹنے سے بارگاہ ِ الہٰی میں پیش ہو جائے تو بڑے نوکر شاہی کے کلرکوں کی طرف سے نا فاتحہ ہوئی اور نا دروود ہوا۔ نوکر شاہی نے تو اپنا وہی آزادی کے بعد سے سونپا گیا کردار بخوبی نبھایا مگر اس بار تو سیاسی مجاوروں کی آنکھوں پر بھی پٹی بندھی رہی ۔ نہ کسی کے گھر جھنڈے والی گاڑی کی آمد ہوئی نہ دو بول ایصال ثواب کے لیے بولے گئے بلکہ دالان میں بندھے شیر نما سگوں کو افسران پر بھونکنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ ہائے غلام عباس تم نہیں مرے۔۔۔بلھے شاہ اسی مرنا ناہیں گور پیا کوئی ہور۔۔۔ ایک شاعر ، گلوکار فلسفے اور تاریخ کا طالب علم شاید پنجاب کے ثقافتی اداروں کو کبھی بھی ایسا افسر میسر نہیں آیا کہ جو خود چلتی پھرتی ثقافت کا نمائندہ تھا۔ اس نے نا صرف ثقافتی اقدار کو اوڑھنا بچھونا بنایا بلکہ اسے اپنے بچوں میں بھی منتقل کیا۔ اپنےبچوں کو جدید علوم سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ افسانہ نگاری، شاعری، رقص اور موسیقی کی تعلیم پر پابندی نہیں لگائی۔ بچپن میں یتیمی کی گھٹڑی سر پر اٹھا کر اس نےمحرومیوں کے نام پر بھیک نہیں مانگی بلکہ زمانے کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر اپنا حصہ چھینا لیکن بڑے ایوانوں کو ایسا برداشت نہیں ہوتا۔ افسروں کے بطور گلوکار اپنے لیے استعمال کیے گئے نا مناسب الفاظ کو خندہ پیشانی سے برداشت کر کے تاریخی تناظر میں ان کے حسب نسب کی ایسے پڑتال کرتا کہ تمام مطالب عیاں ہو جاتے۔ماں نے کپڑے سی کر غلام عباس کو لوگوں کے عیب سینے کا ہنر بھی سکھایا۔ غریب پروری اس پر ختم تھی۔ عاشقِ اہل بیعت تھا، نسبت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ کچھ لوگ بتاتے ہیں کہ آخری دنوں میں کچھ تھکا تھکا سا رہتا تھا۔ کہتا تھا یہ ظلم کا نظام ہے اور میں ان ظالموں کا بھلا کتنی دیر مقابلہ کر سکتا ہوں۔ ہن نہیں ہوندا۔۔۔ہیمنگ وے کے قول کی مثل وہ تباہ تو ہو سکتا تھا مگر ہار نہیں سکتا تھا۔کہنے والے کہتے ہیں ڈاکٹر خاقان حیدر غازی،ڈاکٹر ریاض ہمدانی، ڈاکٹر عاصم ، ڈاکٹر صغریٰ صدف، ڈاکٹر شائستہ نزہت کے ہوتے ہوئے وہ ڈاکٹر تو نہیں کہلوایا لیکن ایسا بیمار ضرور تھا کہ جس نے ثقافت کو کئی ڈاکٹری بیماریوں سے بچایا۔غلام عباس ایک عہد کانام ہےجو ظالم کے خلاف مزاحمت کی علامت ہے اور عمومی طور پر ایسے لوگوں کے جنازے ان کی فکری سماجی اور شعوری وابستگیوں کو عیاں کرتے ہیں۔ عام آدمیوں سے تھا ایوانوں اور نوکر شاہی کی صفوں سے نکل کر عوام کےساتھ سوال ضرور کرتا۔ غلام عباس ایسا کردار تھا کہ جسے حسبی نسبی بڑے ہونے کے دعویدار بھی نہ پہچان سکے تو ان دفاتر اور سیاسی ایوانوں کے بونے کیا خاک پہچانتے۔ کہانی ختم نہیں ہوئی۔ انہی دفاتر میں کچھ کردار اور بھی ہیں لیکن وہ اتنے ثقافتی رچاؤ والے کردار نہیں۔ ان کا اپنا انداز ہے ماضی میں جہاں کہیں آپ کواپنی اوقات بدلتے بونے بیدار ہوتے دکھائی دیں گے وہیں کچھ کردار ایسے ہیں جنہوں نے نا اوقات بدلی اور نہ صفیں۔ سیاسی نعرے سے پہلے کووڈ کے دنوں میں تھیٹر کے حوالے سے پنجاب بھر کے تھیٹر میں اصلاح کی تحریک جو اس وقت راجا جہانگیر انور نے شروع کی اور اس میں علم عادل رانا کے ہاتھ میں آیا۔ راجا جہانگیر اور عادل رانا نے تھیٹر اصلاح کی دراصل بنیاد رکھی تاہم جہاں راجا صاحب اب ساندل بار کے علاقے میں موجود ہیں تو رانا عادل بھی اپنے حصے کی مزاحمت کرتے ہوئے دریائے سندھ کے کنارے نئی بستیاں آباد کرتا نظر آ رہا ہے۔پنجاب کے سب سے بڑے ثقافتی ادارے کا نوحہ یہ ہے کہ اس دور میں سچ بولنے والے کو سجاد حسین کی طرح آٹھ آٹھ نو نو ماہ بغیر کسی وجہ کے او ایس ڈی شپ کی قید کاٹنی پڑتی ہے اور اس کے پس منظر میں جو کچھ بیجا جا رہا ہےاس کا ادراک عوامی داستانوں کا حصہ بنے گا۔ فیض عام بانٹتے قلم انگشت بدندا ں ہو گئیں۔ حلاج کی روح دریائے سندھ کے کنارے غازی گھاٹ پر دوبارہ نمودار ہو گی۔ رتھ کے پہیے سے تاریخ اڑے گی جو آنکھوں کو اندھا نہیں منظر کو روشن کر دے گی۔ سوچنا ہو گا کہ حملہ آوروں کے خلاف مزاحم کار نسلوں کے نمائندے راجے، رانے اور سجاد حسین جیسے کردار بھی کل کے غلام عباس بنیں گے یا اب ثقافتی اداروں میں بھی ثقافتی افسران ثقافت کی پوشاک پہنے من گھڑت اور جھوٹی اونچی پگڑیوں والوں کو رستے دکھائیں گے۔ غلام عباس تو ہارا نہیں اور نہ ہی تجھے ان خون آلود ہاتھوں کی دعائیں درکار ہیں ۔ تیری دی ہوئی فکر سے قندیلیں روشن ہوں گی، ذہن کھلیں گے۔ اب کی بار تو تیرے ساتھ رانا عادل، سجاد حسین ، رانا مقبول اور مسعود ہی نہیں بلکہ ہرن مینار کے باسی، راول اورسون سکیسرکے ثقافتی پہرہ دار، برف پوش پہاڑوں کی شکنتلا دیوی اور گوگیرہ کے کھرل بھی ہیں جو کسی کمیٹی چوک یا شیخو کے دربار کے مکین نہیں۔ تم لوگ ان ثقافتی ڈاکٹروں سے ہزار درجہ بہتر ہو جنہوں نے ثقافت کو بیچا۔ تمہاری بیداری ذاتی بیداری نہیں بلکہ شعوری بیداری کا عہد ہے۔ غلام عباس!
تجھے کس پھول کا کفن ہم دیں؟
’’تو جُدا ایسے موسموں میں ہوا جب درختوں کے ہاتھ خالی تھے۔‘‘
تحریر:- شہزاد رضا جعفری
غلام عباس ۔۔۔ثقافتی بیداری کا عہد








