بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ابھے دیول نے اسٹیم سیل تھراپی سے گھٹنوں کے درد سے نجات کا تجربہ شیئر کیا

اسٹیم سیل تھراپی حالیہ برسوں میں توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، خاص طور پر ان افراد میں جو جوڑوں کے درد، کمر کے مسائل یا اعصابی تکالیف سے طویل عرصے سے متاثر ہیں۔ بھارتی اداکار ابھے دیول نے حال ہی میں اس علاج سے متعلق اپنا ذاتی تجربہ شیئر کیا، جس نے دوبارہ اس موضوع کو عام بحث کا حصہ بنا دیا۔
ابھے دیول نے انسٹاگرام پر بتایا کہ وہ گھٹنوں کے درد اور سلپ ڈسک کے باعث بائیں ٹانگ میں ہونے والے اعصابی درد یعنی سائٹیکا کا شکار تھے۔ چونکہ وہ سرجری سے گریز کرنا چاہتے تھے، اس لیے انہوں نے متبادل علاج کے طور پر اسٹیم سیل تھراپی کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور اسے آزمانے کا فیصلہ کیا۔ اداکار کے مطابق یہ علاج انہوں نے جنوبی کوریا کے ایک کلینک میں کروایا۔
ابھے دیول نے کہا کہ یہ تجربہ ان کے لیے حیران کن حد تک محفوظ اور قدرتی رہا، کیونکہ اس میں کسی مصنوعی مواد کی بجائے انہی کے اپنے خلیات استعمال کیے گئے، جو جسم کو اپنی مرمت اور بحالی میں مدد دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ دوبارہ بھی علاج کے لیے گئے اور ان کے اسٹیم سیلز آئندہ استعمال کے لیے محفوظ کر لیے گئے ہیں۔
لیکن اسٹیم سیل تھراپی حقیقت میں کیا ہے؟ طبی ماہرین کے مطابق اسے ری جنریٹو میڈیسن بھی کہا جاتا ہے، اور یہ طریقہ خراب یا متاثرہ بافتوں کی مرمت کے لیے خاص خلیات استعمال کرتا ہے۔ اسٹیم سیلز کی دو اہم خصوصیات ہیں: یہ اپنی نقل بنا سکتے ہیں اور ضرورت کے مطابق مختلف اقسام کے خلیات میں بدل سکتے ہیں۔ یہ خلیات جسم کے تقریباً ہر حصے میں پائے جاتے ہیں اور چوٹ کے بعد بافتوں کی بحالی میں کردار ادا کرتے ہیں، جیسے ہڈیوں کے گودے میں موجود اسٹیم سیلز خون کے خلیات پیدا کرتے ہیں، جبکہ کچھ دماغ، دل، ہڈی یا اعصابی خلیات میں بھی تبدیل ہو سکتے ہیں۔
تحقیقات کے مطابق اسٹیم سیل تھراپی اعصابی درد، ڈسک سے متعلق کمر کے درد، اوسٹیو آرتھرائٹس اور عضلاتی و ہڈیوں کے مسائل میں فائدہ پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ خلیات سوزش کم کرنے اور متاثرہ ٹشوز کی مرمت کے ذریعے درد میں کمی لاسکتے ہیں، تاہم اثر فوری نہیں ہوتا اور بحالی میں ہفتے لگ سکتے ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ فار اسٹیم سیل اینڈ ری جنریٹو میڈیسن کے مطابق، اگرچہ علاج چند گھنٹوں میں مکمل ہو سکتا ہے، لیکن مریضوں کو ممکنہ سائیڈ ایفیکٹس کے لیے مانیٹر کیا جاتا ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ نجی کلینکس میں دی جانے والی کئی اسٹیم سیل تھراپیز کو امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی منظوری حاصل نہیں ہے، اور ان کی تاثیر یا حفاظت کے حوالے سے بڑے پیمانے پر کلینیکل ٹرائلز موجود نہیں۔ غیر منظور شدہ علاج میں سنگین خطرات بھی دیکھے گئے ہیں، جن میں شدید بیماری یا بینائی متاثر ہونا شامل ہیں، اور یہ عام طور پر انشورنس میں بھی شامل نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے مریض خود بھاری رقم ادا کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اسٹیم سیل تھراپی مستقبل میں علاج کا ایک پُرکشش شعبہ ضرور ہے اور درد کے انتظام اور ٹشوز کی بحالی میں امکانات رکھتی ہے، لیکن اس وقت احتیاط اور سائنسی رہنمائی کے بغیر اس کا استعمال خطرناک ہو سکتا ہے۔