بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

گزشتہ دو سال میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ اور اس کی وجوہات

گزشتہ دو سال کے دوران سونے کی قیمتیں دُگنی سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں مارچ 2024 سے سونے کی قیمتوں میں اضافہ شروع ہوا، جب سرمایہ کاروں کو یقین ہوا کہ امریکہ فیڈرل ریزرو شرح سود میں اضافہ نہیں کرے گا۔ یہ رجحان سال 2025 میں بھی جاری رہا۔
قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات:
امریکہ میں داخلی سیاسی تنازعات اور فیڈرل ریزرو کے فیصلوں میں اختلافات۔
وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر امریکی قبضے اور ایران، گرین لینڈ کے ساتھ بڑھتی کشیدگی۔
دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کی جانب سے تقریباً 1700 ٹن سونے کی خریداری۔
چین کی جانب سے ڈالر بانڈز اور ٹریژری بلز کی فروخت کے بعد سونے کے ذخائر میں اضافہ۔
ان عوامل کے نتیجے میں بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں تقریباً 3,500 ڈالر اضافہ ہوا۔ پاکستان میں مارچ 2024 میں فی تولہ سونے کی قیمت 2,27,800 روپے تھی، جو 28 جنوری 2025 کو بڑھ کر 5,72,862 روپے تک پہنچ گئی۔
حالیہ کمی:
حال ہی میں منافع کے حصول کے رجحان کے باعث سونے کی قیمتیں بین الاقوامی مارکیٹ میں کم ہو رہی ہیں۔
فی اونس سونا: 4,895 ڈالر (255 ڈالر کی کمی)
فی تولہ سونا پاکستان میں: 5,11,862 روپے (25,500 روپے کی کمی)
فی 10 گرام سونا: 4,38,839 روپے (21,862 روپے کی کمی)
فی اونس چاندی: 85.31 ڈالر (20.63 ڈالر کی کمی)
فی تولہ چاندی: 9,006 روپے (2,063 روپے کی کمی)
فی 10 گرام چاندی: 7,721 روپے (1,768 روپے کی کمی)
نتیجہ:
سونے کی قیمتوں میں دو سالہ زبردست اضافہ عالمی سیاسی کشیدگی، امریکی اقتصادی فیصلوں، مرکزی بینکوں کی خریداری اور سرمایہ کاری کے رجحانات کی وجہ سے ہوا، جبکہ حالیہ دنوں میں منافع کے حصول کے سبب قیمتوں میں کمی بھی دیکھی گئی۔