اسرائیلی فوج نے ایک انتہائی وحشیانہ کارروائی کرتے ہوئے فلسطینی شہری جواد ابو ناصر کے سامنے اس کے 18 ماہ کے بچے کے جسم کو سگریٹ سے داغ دیا اور زخموں میں ناخن پیوست کر دیے۔
حاضرین کے مطابق بچے جواد ابو ناصر جسم میں سوراخ ہونے کی وجہ سے شدید درد سے بلک بلک کر روتا رہا، جبکہ اسرائیلی فوج اس کے والد اسامہ ابو ناصر کو جبری اعتراف پر مجبور کر رہی تھی۔
ریڈکراس کی مداخلت کے بعد بچے کو تقریباً 10 گھنٹے بعد رہا کیا گیا، تاہم اس کے والد کو گرفتار کر لیا گیا۔
یہ افسوسناک واقعہ مغازی پناہ گزیں کیمپ کے ایک چیک پوسٹ پر پیش آیا، اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے، اسے بچوں اور خاندانوں کے خلاف غیر انسانی سلوک قرار دیا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج کی بربریت، 18 ماہ کے بچے کے جسم پر تشدد








