بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

انڈونیشیا کا غزہ پیس بورڈ کے لیے ایک ارب ڈالر فیس دینے سے انکار

انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک غزہ پیس بورڈ کی رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر فیس ادا نہیں کرے گا۔ انہوں نے اس حوالے سے گردش کرنے والی خبروں کی تردید کی اور کہا کہ انڈونیشیا نے کبھی بھی اتنی بڑی مالی معاونت کا وعدہ نہیں کیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر پرابوو سوبیانتو نے کہا کہ انڈونیشیا نے صرف غزہ میں قیام امن کے لیے امن فوج فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ ان کے مطابق ملک کا کردار محدود اور واضح ہے، اور وہ صرف پیس کیپنگ مشنز میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں، نہ کہ بھاری مالی ذمہ داری اٹھانے کے لیے۔
صدر نے مزید کہا کہ انڈونیشیا نے کسی بھی قسم کا مالی وعدہ نہیں کیا اور اس حوالے سے پھیلنے والی اطلاعات درست نہیں ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ انڈونیشین فوج صرف امن برقرار رکھنے کی خدمات انجام دے سکتی ہے اور ضرورت پڑنے پر مطلوبہ تعداد میں اہلکار فراہم کیے جا سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق صدر کی یہ وضاحت عوامی خدشات کو دور کرنے کے لیے کی گئی، کیونکہ ملک میں یہ تشویش تھی کہ ایک ارب ڈالر کی ممکنہ ادائیگی سے قومی بجٹ پر بھاری بوجھ پڑ سکتا ہے۔ اس سے قبل 3 فروری کو انڈونیشیا کے وزیر خزانہ نے عندیہ دیا تھا کہ یہ رقم وزارت دفاع کے بجٹ سے فراہم کی جا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ صدر پرابوو سوبیانتو نے واشنگٹن میں غزہ بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی تھی، جہاں غزہ کی تعمیر نو، ہنگامی امداد اور سکیورٹی استحکام کے لیے ابتدائی طور پر 17 ارب ڈالر کے وعدے کیے گئے۔ امریکا نے اس میں 10 ارب ڈالر دینے کا اعلان کیا، جبکہ یو اے ای، سعودی عرب اور قطر سمیت دیگر 9 ممالک نے مجموعی طور پر 7 ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا۔
دوسری جانب، انڈونیشین میڈیا کے مطابق صدر کو غزہ بورڈ میں شمولیت پر ملک کے اندر سخت تنقید کا بھی سامنا ہے۔