افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کی مبینہ سرپرستی ایک بار پھر عالمی سطح پر بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ تازہ ترین انکشافات میں سابق اعلیٰ افغان (afghan)عہدیداروں نے شواہد کے ساتھ دعویٰ کیا ہے کہ طالبان رجیم اورفتنہ الخوارج سمیت دیگر عالمی دہشت گرد گروہوں کے درمیان گہرا گٹھ جوڑ موجود ہے، جو خطے کے لیے ایک سنگین سکیورٹی چیلنج بن چکا ہے۔
افغان میڈیاافغان انٹرنیشنل کے مطابق، افغانستان کے سابق مشیرِ قومی سلامتی احمد ضیاء سراج نے ہوشربا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ طالبان رجیم نہ صرف فتنہ الخوارج کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے بلکہ دونوں کے درمیان جدید اسلحے کی فراہمی اور خودکش حملہ آوروں کے تبادلے کے معاہدے بھی موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغان سرزمین کو ایک بار پھر عالمی دہشت گردی کے لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
سابق عہدیدار کا کہنا تھا کہ طالبان اور دہشت گرد تنظیموں کے درمیان اس “گھناؤنے تعلق” کی سب سے بھاری قیمت عام افغان شہری ادا کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کی اس سرپرستی نے افغانستان کو عالمی تنہائی کا شکار کر دیا ہے، جس سے انسانی اور معاشی بحران مزید سنگین ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیں:کینڈین وزیر اعظم کا شہباز شریف کو ٹیلیفون، سفارتی کامیابی کا اعتراف ،مبارکباد دی
سیاسی و دفاعی ماہرین کے مطابق، طالبان رجیم اپنے غیر قانونی تسلط کو برقرار رکھنے کے لیے بیرونی اشاروں پر دہشت گرد گروہوں کی سہولت کاری کر رہی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہمسایہ ممالک کی سلامتی کو داؤ پر لگانے کی یہ پالیسی خود افغانستان کے لیے بھی خودکش ثابت ہوگی۔
رپورٹ میں یہ بات زور دے کر کہی گئی ہے کہ اگر عالمی برادری نے افغان سرزمین پر پلنے والے ان دہشت گرد نیٹ ورکس کا نوٹس نہ لیا تو خطے میں امن و استحکام کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔









