پاکستان کی معاشی بحالی اور استحکام کی کوششوں کو عالمی سطح پر ایک بڑی کامیابی ملی ہے۔ عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ (fitch)نے پاکستان کی ریٹنگ کوبی نیگیٹو’ (B-)پر برقرار رکھتے ہوئے مستقبل کے آؤٹ لک کومستحکم قرار دیا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اور خوش آئند اشارہ ہے۔
مشیرِ وزیرِ خزانہ **خرم شہزاد** نے فچ کی رپورٹ پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ریٹنگ کا برقرار رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں جاری معاشی اصلاحات اور پالیسیوں کا تسلسل درست سمت میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کی جانے والی ساختی اصلاحات نے معیشت کو سہارا دیا ہے، جس کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔
خرم شہزاد نے انکشاف کیا کہ آئی ایم ایف کی حالیہ منظوری کے بعد پاکستان کو جلد ہی 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط ملنے کی توقع ہے، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید بہتری آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرحِ سود کو کم کر کے 10.5 فیصد پر لانا سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے اور صنعتی پہیہ چلانے کے لیے ایک جرات مندانہ قدم ہے۔
مزیدپڑھیں:خطے میں کشیدگی: وزیراعظم کی زیر صدارت پٹرولیم ذخائر کا اہم جائزہ اجلاس
حکومتی تخمینوں کے مطابق، رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ (ترقی کی شرح) 3.1 فیصد رہنے کی توقع ہے، جبکہ مہنگائی کی شرح جو کبھی آسمان سے باتیں کر رہی تھی، اب واضح کمی کے ساتھ 7.9 فیصد تک محدود رہنے کا امکان ہے۔
مشیرِ خزانہ نے زور دے کر کہا کہ پاکستان کو اس وقت متعدد بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن اس کے باوجود حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی پائیدار ترقی کی پالیسیوں کی بدولت ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہے۔ فچ کی یہ رپورٹ بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستان کی ساکھ کو مزید بہتر بنائے گی جس سے براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی۔









