امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک متنازع سوشل میڈیا پوسٹ کے باعث شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد انہوں نے اپنی اے آئی سے تیار کردہ تصویر ڈیلیٹ کر دی۔ یہ تصویر انہوں نے اپنے پلیٹ فارم (Truth Social )پر شیئر کی تھی، جس میں وہ خود کو یسوع مسیح کے انداز میں پیش کرتے دکھائی دے رہے تھے۔
تصویر سامنے آتے ہی مسیحی برادری اور مذہبی رہنماؤں کی جانب سے سخت ردعمل آیا اور اسے توہین آمیز قرار دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر بھی اس تصویر پر بحث چھڑ گئی اور کئی صارفین نے اسے نامناسب قرار دیا۔ یہ پوسٹ تقریباً بارہ گھنٹے تک آن لائن رہی، جس کے بعد اسے خاموشی سے ہٹا دیا گیا۔
مزید پڑھیں:چاندی کے بسکٹوں میں مبینہ خرد برد: کوئٹہ میں کسٹمز کے دو افسران گرفتار
بعد ازاں ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے پر وضاحت دینے کی کوشش کی اور کہا کہ ان کا مقصد خود کو ایک ڈاکٹر یا انسانی خدمت کرنے والے فرد کے طور پر پیش کرنا تھا، جس کا انداز کسی ریڈ کراس کارکن جیسا تھا۔ تاہم ناقدین نے ان کی اس وضاحت کو غیر تسلی بخش قرار دیا اور سوال اٹھایا کہ اگر ایسا ہی تھا تو تصویر میں مذہبی علامتوں اور روشنی کے مخصوص انداز کو کیوں شامل کیا گیا۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ عوامی شخصیات کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کیے جانے والے مواد، خصوصاً حساس مذہبی موضوعات، کس طرح فوری اور شدید ردعمل کا باعث بن سکتے ہیں۔









