بارکہو میں اسلام آباد کے علمی و روحانی مرکز خانقاہ عالیہ قادریہ راشدیہ، المعرفت ٹرسٹ کے تحت پنڈی گھیب کے علمی، مذہبی، روحانی بقرال خاندان کی تاریخ، تہذیب ، سماجی اور فکری ارتقا پر مبنی کتاب‘‘ تاریخ خاندان بقرال‘‘ کی رونمائی ہوئی۔
تقریب میں اہلِ علم، محققین، مصنفین، صحافیوں اور خاندان بقرال سے وابستہ معزز شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب کے نظامت کے فرائض ڈاکٹر طارق محمود نے ادا کئے۔صدر مجلس اور بقرال کی بزرگ ہستی المعرفت منزل کے بانی اور سرپرست حضرت پروفیسر عبد اللطیف نے مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے المعرفت کا تعارف پیش کیا۔تقریب میں معروف صحافی اور تاریخ دان سجاد اظہر کا ویڈیو پیغام سنایا گیا۔
اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ کتاب میں تاریخی حوالوں سے بات کی گئی ہے۔یہ حوالے اتنے معتبر ہیں کہ اس کتاب کی اہمیت کو دوچند کردیتے ہیں۔یہ کسی حد تک خاندان بقرال سے نکل کر ضلع اٹک اور میانوالا کی تاریخ بن جاتی ہے۔
علاقہ کی تاریخ قدیم ترین لوک کہانیوں میں ملتی ہے۔حضرت پروفیسر ڈاکٹر عبداللطیف نے اپنے خطاب میں عظیم علمی و تحقیقی کاوش کے تمام مصنفین، مرتبین اور معاونین کو مبارک دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نہ صرف تاریخ کو محفوظ کیا بلکہ ایک رشتہ، ایک احساس اور ایک ورثے کو آنے والی نسلوں تک منتقل کیا ہے۔
تاریخ خاندان بقرال ایک اہم علمی سنگ میل ہے جو اس خطے کی علمی روایت کو محفوظ بنانے کی عملی کوشش ہے ، اس نوعیت کی تحقیق نوجوان نسل کے لیے اپنی جڑوں سے جڑنے اور تاریخی شعور بیدار کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔انہوں نے کہا کہ خاندانی حسب و نسب کا علم ہمیں اپنے بزرگوں ، اسلاف کی محنت، قربانی اور کردار کی یاد دلاتا ہے۔
مزید پڑھیں:اسلام آباد عالمی امن کا مرکز؛ امریکہ ،ایران مذاکرات کا دوسرا دور رواں ہفتے متوقع
لیکن ہمیں یہ حقیقت بھی یاد رکھنی چاہئے کہ دین اسلام نے نسب کو فضیلت کا معیار نہیں بنایا بلکہ اصل معیار تقویٰ، کردار اور عمل ہے۔ لہذا ہمیں شکر، عاجزی، شعور اورخوداحتسابی کی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی ظاہری اور باطنی زندگیوں کو بہتر بنانا چاہئیے۔ تقریب سے محمد اشرف انجم ،جنید اشرف، ڈاکٹر ظہور ،مشتاق صاحب ،ڈاکٹر منیر،نورالامین،عجائب صاحب ،محمد اجمل اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
کتاب میں اس دور کے سماجی و معاشی ڈھانچے، بالخصوص زمین داری نظام، لگان اور ملکیتی طریقہ کار پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے جو علاقائی تاریخ کو سمجھنے میں اہم معاون ثابت ہوتے ہیں۔خاندان بقرال کی باقاعدہ تاریخی تدوین کا آغاز 1948 کے بعد ہواجب حافظ قمرالدین نے اپنے خاندان کا ابتدائی شجرہ مرتب کیا جس کے بعد محمد امین شاہ اور دیگر محققین نے اس کام کو وسعت دے کر اسے کتابی صورت دی۔









