بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور (Manipur) ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آ گئی ہے، جہاں ضلع بشنوپور میں حالات نہایت خراب ہو گئے ہیں۔ مقامی آبادی اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں نے علاقے کو ایک بار پھر خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بشنوپور میں حالیہ بم دھماکے اور بچوں کی ہلاکت کے بعد عوامی غم و غصہ شدت اختیار کر گیا، جس کے نتیجے میں احتجاجی مظاہرے پرتشدد جھڑپوں میں تبدیل ہو گئے۔ متعدد مقامات پر مظاہرین نے سیکیورٹی فورسز کی پیش قدمی روکنے کی کوشش کی، جس پر حالات مزید بگڑ گئے۔
اطلاعات کے مطابق جھڑپوں کے دوران کئی افراد زخمی ہوئے، جبکہ مشتعل ہجوم نے سیکیورٹی فورسز کی دو گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فورسز کے اہلکاروں کو کچھ وقت کے لیے گھیرے میں لے لیا گیا۔
مزید پڑھیں:امریکی صدر ٹرمپ کی برطانیہ کو تجارتی معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی
بھارتی ذرائع ابلاغ، بشمول انڈیا ٹوڈے اور دیگر قومی میڈیا اداروں نے بھی تسلیم کیا ہے کہ بشنوپور میں حالات نہایت کشیدہ ہیں اور مظاہرین و فورسز کے درمیان براہِ راست تصادم دیکھنے میں آیا۔ تازہ اطلاعات کے مطابق علاقے میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کر دی گئی ہیں جبکہ سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق منی پور میں جاری نسلی اور سیاسی کشیدگی صرف ایک مقامی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ اب قومی سطح پر حکومتی پالیسیوں پر سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مرکز کی خاموشی اور تاخیر سے ردعمل نے حالات کو مزید پیچیدہ بنایا، جس سے مختلف گروہوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔
کئی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر فوری طور پر سیاسی مذاکرات، اعتماد سازی اور عوامی تحفظ کے اقدامات نہ کیے گئے تو منی پور کی صورتحال مزید سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔









