افغانستان میں طالبان (Taliban) حکومت کے خلاف عوامی اور سیاسی سطح پر مخالفت کی آوازیں ایک بار پھر زور پکڑنے لگی ہیں۔ مختلف حلقوں میں طالبان کی پالیسیوں، سیاسی طرزِ حکمرانی اور داخلی حالات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ بعض مزاحمتی رہنماؤں نے قومی اتحاد اور ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے رہنما احمد مسعود نے کہا ہے کہ افغانستان میں موجود سیاسی تعطل ٹوٹنے کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان مخالف قوتوں کے درمیان اتحاد اور مؤثر رابطہ ہی آگے بڑھنے کی بہترین حکمتِ عملی ہے۔
احمد مسعود نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ طالبان کا کوئی متبادل موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف افغان سیاسی گروہ بنیادی اصولوں پر اتفاقِ رائے رکھتے ہیں اور ملک کو ایک جامع سیاسی راستے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اصل طاقت عوام ہیں، اس لیے عوام کو مایوسی یا کسی بھی قسم کے پروپیگنڈے سے دور رہنا چاہیے۔
مزید پڑھیں:تہران میں ریلی، ایرانی عوام کا پاکستان سے اظہارِ تشکر اور یکجہتی کو خراجِ تحسین
سیاسی مبصرین کے مطابق افغانستان میں جاری انسانی، معاشی اور سیکیورٹی بحران نے عوامی بے چینی میں اضافہ کیا ہے۔ ملک کو درپیش عالمی تنہائی، اقتصادی مشکلات اور داخلی کشیدگی نے عوام میں اضطراب پیدا کیا ہے، جس کے باعث مختلف علاقوں سے اختلافی آوازیں سامنے آ رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق مزاحمتی گروہوں اور بعض سیاسی شخصیات کی جانب سے قومی سطح پر اتحاد اور عوامی شمولیت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ افغانستان میں ایک وسیع البنیاد سیاسی حل کی راہ ہموار ہو سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کے مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ مختلف سیاسی اور سماجی قوتیں کس حد تک باہمی ہم آہنگی پیدا کر پاتی ہیں اور عوامی اعتماد بحال کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں۔









