اسلام آباد ( ملک نجیب ) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں معروف اینکر جمیل فاروقی کے خلاف ان کی اہلیہ کو مبینہ طور پر حبسِ بے جا میں رکھنے اور تشدد کا معاملہ سامنے آگیا، جس پر عدالت نے خاتون کی بازیابی کے بعد اہم احکامات (important orders)جاری کر دیے ۔
پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن نے صلح کرانے کی پیشکش کر دی ۔ تھانہ گولڑہ کی حدود سے جمیل فاروقی کی اہلیہ عائشہ مسرت کو عدالتی حکم پر بازیاب کرا لیا گیا۔ خاتون کے والدین کی درخواست پر عدالت نے بازیابی کا حکم دیا تھا جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے بیلف اور پولیس ٹیم نے خاتون کو بازیاب کرا کے عدالت میں پیش کیا۔
سماعت کے دوران عائشہ مسرت نے عدالت کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کرایا جس میں انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ دو ماہ سے اپنے شوہر کے ساتھ رہ رہی تھیں تاہم انہیں اپنے والدین سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔ خاتون نے الزام عائد کیا کہ جمیل فاروقی انہیں مسلسل تشدد کا نشانہ بناتے رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ عاقل و بالغ ہیں اور اپنے فیصلے خود کرنے کی اہل ہیں۔ عدالت میں بیان دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ جانا چاہتی ہیں ۔ فریقین کے مؤقف سننے کے بعد عدالت نے قرار دیا کہ خاتون عاقل و بالغ ہیں اور انہیں اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔
عدالت نے عائشہ مسرت کو والدین کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔ بعد ازاں عدالت نے حبسِ بے جا میں رکھنے سے متعلق دائر درخواست نمٹا دی۔ اس کیس میں ایڈیشنل سیشن جج عرفان اکرم نے احکامات جاری کیے۔ واضح رہے کہ کیس میں لگائے گئے الزامات پر جمیل فاروقی کی جانب سے مؤقف سامنے نہیں آیا جبکہ معاملہ قانونی اور سماجی حلقوں میں توجہ کا مرکز بن گیا ہے ۔
مزید پڑھیں:بائیکرز سبسڈی پروگرام کیلئے محکمہ خزانہ پنجاب نے 6 ارب 60 کروڑ روپے جاری کر دیے
پیپلز پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن نے اس حوالے سے ٹوہٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ جمیل فاروقی کا فیملی ایشو ہے اور میرے حلقے میں ان کی شادی دو ماہ پہلے ہوئی ۔ اگر جمیل فاروقی کو مدد چاہئیے تو میں مسئلہ حل کروا دیتا ہوں ۔








