بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اہلیہ تشدد کیس، اینکر جمیل فاروقی کا موقف آگیا، تمام الزامات کی تردید

اسلام آباد ( سٹاف رپورٹر ) اینکر جمیل فاروقی پر ان کی اہلیہ کو مبینہ طور پر حبسِ بے جا میں رکھنے اور تشدد کے الزامات کے معاملے میں جمیل فاروفی کا بیان سامنے آ گیا ہے ۔ جمیل فاروقی(jamil farooqi) نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں بیوی کو حبسِ بے جا میں رکھنے یا تشدد کرنے کے الزامات بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں۔

جمیل فاروقی کے مطابق واقعہ صبح تقریباً ساڑھے دس بجے پیش آیا جب ان کی اہلیہ کے 16 سے 17 رشتہ دار ان کے گھر میں داخل ہوئے اور ان پر حملہ کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لڑکی کے والدین پولیس کو بھی ساتھ لے کر آئے تھے، تاہم مبینہ تشدد کے دوران پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی اہلیہ دو ماہ کی حاملہ ہیں اور ڈاکٹرز نے انہیں خصوصی خیال رکھنے کی ہدایت کی تھی۔ ان کے بقول اہلیہ اپنے والدین سے مسلسل رابطے میں تھیں اور عید کے موقع پر ان کے والدین ان کے گھر بھی آئے تھے۔ جمیل فاروقی نے بتایا کہ ان کی عائشہ مسرت سے شادی 12 فروری 2026 کو ہوئی، جو ان کی پسند کی شادی تھی جبکہ 13 فروری کو اسلام آباد میں نکاح کی تقریب بھی منعقد ہوئی جس میں دونوں خاندانوں کے افراد شریک تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اہلیہ کو کہا تھا کہ وہ اپنے خاندان کو بھی اعتماد میں لیں۔ انہوں نے عدالت میں دیے گئے بیان کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف جھوٹی گواہی دی گئی۔ مزید برآں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی اہلیہ گزشتہ چار سال سے ڈپریشن کے علاج کے لیے ادویات استعمال کر رہی تھیں۔ ان کے مطابق واقعے سے دو روز قبل بھی اہلیہ کے والدین چند رشتہ داروں کے ہمراہ ان کے گھر آئے اور ہنگامہ آرائی کر کے چلے گئے تھے۔

مزید پڑھیں:بیساکھی میلہ: پاکستان میں دنیا بھر سےآمد، سکھ یاتریوں کا پرتپاک استقبال

دوسری جانب اس معاملے پر قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت کا فیصلہ خاتون کے بیان اور اس کی آزادانہ مرضی کی بنیاد پر دیا گیا ہے جبکہ الزامات اور جوابی دعوؤں کی مزید جانچ پڑتال متعلقہ فورمز پر کی جا سکتی ہے۔ یہ معاملہ اس وقت میڈیا اور عوامی حلقوں میں زیر بحث ہے، جہاں دونوں فریقین کے بیانات کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔