وفاقی حکومت (Federal Government) کی جانب سے پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کی مد میں عوام سے گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران 180 ارب روپے سے زائد وصول کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
وفاقی وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کی وصولی میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے دوران بھی حکومت نے اس مد میں بھاری آمدن حاصل کی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال جولائی سے اپریل کے وسط تک مجموعی طور پر 1,234 ارب روپے پیٹرولیم لیوی کی مد میں جمع کیے گئے، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 400 ارب روپے زیادہ ہیں۔ اسے ملکی تاریخ میں ایک بڑی مالیاتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں جلد کمی کا امکان، وفاقی وزیر توانائی
تفصیلات کے مطابق جولائی میں 157 ارب روپے، اگست میں 103 ارب 46 کروڑ روپے، ستمبر میں 112 ارب 85 کروڑ روپے اور اکتوبر میں 143 ارب 48 کروڑ روپے وصول کیے گئے۔
نومبر میں یہ رقم 148 ارب 36 کروڑ روپے جبکہ دسمبر میں سال کی سب سے زیادہ ماہانہ وصولی 162 ارب 46 کروڑ روپے رہی۔
جنوری میں 108 ارب 76 کروڑ روپے، فروری میں 120 ارب 39 کروڑ روپے اور مارچ میں 139 ارب 48 کروڑ روپے جمع کیے گئے، جبکہ اپریل کے ابتدائی 15 دنوں میں مزید 38 ارب روپے وصول ہو چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مجموعی آمدن کا بڑا حصہ درآمدی پیٹرول اور ڈیزل پر عائد لیوی سے حاصل ہوا ہے، جہاں رواں مالی سال کے دوران اب تک 598 ارب روپے سے زائد وصول کیے جا چکے ہیں۔ خام تیل سے تیار شدہ مصنوعات پر جولائی سے مارچ کے دوران 635 ارب 19 کروڑ روپے پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی اکٹھی کی گئی۔









