عالمی رہنماؤں کو ایران اور امریکا کے درمیان مستقل جنگ بندی کیلیے مشترکہ کوششیں کرنا چاہیئے
ترک صدر طیب اردوان نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے مسلط ایران پر جنگ کے اثرات سے یورپی ممالک (European countries)بھی کمزور کرنا شروع ہو گئے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ترک صدر اردوان نے یہ بات جرمن صدر فرینک والٹر سے گفتگو میں کہی تھی۔
ترک ایوانِ صدر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ یورپی معیشت اور سیکیورٹی کے لیے بھی خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
صدر طیب اردوان کا کہنا تھا کہ اگر تنازع کو حل کرنے کے لیے سفارتی اور پُرامن راستہ اختیار نہ کیا گیا تو اس کے اثرات کہیں زیادہ تباہ کن ہوں گے۔
انھوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کو مستقل بنانے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے کردار ادا کرے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران نے جنگ بندی کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار کردیا تھا جس پر امریکی صدر نے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تھا۔
مزید پڑھیں:بحرِ ہند: عالمی معیشت کی شہ رگ، معمولی رکاوٹ بھی بڑا بحران بن سکتی ہے، امیر البحر
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ توسیع اُس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایران کی عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر ہم آہنگی نہ ہوجائے۔









