کراچی کے نوجوان صالح آصف کی اے آئی کمپنی” کرسر” خریدنے کا آپشن حاصل۔ نوجوان صالح آصف نے مصنوعی ذہانت کے میدان میں بڑا کارنامہ انجام دیتے ہوئے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن (enlightening country name)کر دیا ہے۔
ان کی قائم کردہ اے آئی کمپنی ’’کرسر‘‘ کی قیمت 60 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جس میں دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل ایلون مسک نے گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایلون مسک کی کمپنی نے ’’کرسر‘‘ نامی اس اسٹارٹ اپ کو 60 ارب ڈالر میں خریدنے کا آپشن حاصل کر لیا ہے جبکہ شراکت داری کی ممکنہ ڈیل کی مالیت 10 ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔
یہ کمپنی صالح آصف اور ان کے تین دیگرشریک بانیوں نے قائم کی، جن کی عمریں 30 سال سے کم ہیں۔ ان کا تیار کردہ اے آئی پروجیکٹ کوڈنگ کے عمل کو خودکار بنانے پرکام کرتا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ کے شعبے میں بڑی تبدیلی متوقع ہے۔
’’کرسر‘‘ کے ٹولز اس وقت دنیا کی 50 ہزار سے زائد کمپنیوں میں استعمال ہو رہے ہیں، جہاں لاکھوں ڈیولپرز اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔
کمپنی کا سالانہ منافع ایک ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے اور اسے تیزی سے ترقی کرنے والی نمایاں اے آئی کمپنیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:امریکی اخبار نیویارک ٹائمزکے ایرانی سپریم لیڈر کی صحت بارےپراسرارتفصیلات اور انکشافات
امریکی جریدے فوربز کے مطابق صالح آصف کے اثاثوں کی مالیت تقریباً 1.3 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہے، جو ان کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔









