صدرمملکت آصف علی زرداری (Asif Ali Zardari) پانچ روزہ سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد چین کے شہر Sanya سے پاکستان روانہ ہو گئے۔ روانگی کے موقع پر انہیں Communist Party of China ہائی نان کے سینئر رہنما وانگ چیانگ نے الوداع کیا، جبکہ پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی دونگ اور چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی بھی موجود تھے۔
دورۂ چین کے دوران صدر مملکت نے Hunan اور ہائی نان میں صنعتی، زرعی اور بحری معیشت کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ انہوں نے شاؤشان میں Mao Zedong کے آبائی شہر کا دورہ بھی کیا اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
ذرائع کے مطابق دورے کا اہم محور CPEC 2.0 کے تحت صنعتی ترقی اور بلیو اکانومی میں پیشرفت رہا۔ چانگشا میں قیام کے دوران پاکستان اور چین کے اداروں کے درمیان سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے، زرعی ٹیکنالوجی اور چائے کے شعبے میں تعاون کے لیے تین مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔
مزیدپڑھیں:پی ایس ایل: دوسرے ایلی منیٹر میں حیدرآباد اور اسلام آباد آج مدِمقابل
اسی طرح Sanya میں صدرِ مملکت کی موجودگی میں مشینری، جانوروں کی ویکسینز اور طبی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے دو مفاہمتی یادداشتوں اور ایک مشترکہ سرمایہ کاری معاہدے پر بھی دستخط ہوئے۔
صدر آصف علی زرداری نے چانگشا اور سانیا میں صوبائی قیادت سے ملاقاتیں کیں، جبکہ انہوں نے Pakistan Navy کی پہلی ہنگور کلاس آبدوز کی کمیشننگ تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت بھی کی۔
حکام کے مطابق اس دورے کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے تناظر میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا، جسے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی کے تسلسل کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔









