اسلام آباد،کاروبار کرنے کی لاگت کم کرنے کے لیے بجٹ میں خصوصی اقدامات کیے جائیں، صدر پاکستان بزنس فورم(Sadar business form)
پاکستان بزنس فورم نے وزارت خزانہ کو 2026-2027 کے لیے بجٹ تجاویز بھجوا دیں جس میں کہا گیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں گروتھ کی طرف کا سمت تعین کیا جائے۔
صدر پاکستان بزنس فورم خواجہ محبوب کا کہنا ہے کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، بجٹ میں سپر ٹیکس کو ختم کیا جائے، سپرٹیکس عارضی طور پر لگایا گیا تھا لیکن اسے مستقل حصہ بنا دیا گیا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ کاروبار کرنے کی لاگت کم کرنے کے لیے بجٹ میں خصوصی اقدامات کیے جائیں، کارپوریٹ ٹیکس میں بتدریج کمی کی جائے تاکہ بزنس کمیونٹی کو ریلیف مل سکے۔
صدر پاکستان بزنس فورم خواجہ محبوب نے کہا کہ ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے تاجروں پر ماہانہ 10 ہزار روپے فکس ٹیکس مقرر کیا جائے، فکس ٹیکس دینے کے بعد تاجر سے پھر کوئی سوال نہ پوچھا جائے، فکس ٹیکس کو بجلی بل میں شامل کیا جائے تاکہ حکومت اور تاجروں دونوں کو آسانی ہو۔
ان کا کہنا ہے کہ ٹیکسٹائل برآمدات بڑھانے کے لیےمقامی کاٹن سیڈ اور آئل کیک پر سیلز ٹیکس ختم کیا جائے، کچھ سال سےسیلز ٹیکس لگنے سےمقامی کپاس کی پیداوار 40سال کی کم سطح پر آگئی۔
خواجہ محبوب کا کہنا تھا پاکستان بزنس فورم مطالبہ کرتی ہے کہ گرین پاکستان انیشیٹیوکے تحت کارپوریٹ فارمنگ کے فروغ کے لیے 7 سال ٹیکس چھوٹ دی جائے، تعمیرات کے شعبے میں سرمایہ کاری واپس لانے کے لیے سیکشن 7 ایکو ختم کیا جائے، اسی طرح سیکش 8 اور 8 بی میں بھی ترمیم کی جائے۔۔
مزید پڑھیں:جنگ کے خاتمے کیلئے سست سفارتی کوششوں کا ذمہ دار امریکا ہے، اسماعیل بقائی
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس بجٹ میں ریوینیو جنریشن سوچ کو مسترد کیا جائے گا، نان فائلرز کو تین سے زیادہ گاڑیاں رکھنے کی اجازت نہ ہو، انڈر انوائسنگ کو روکنے کے لیے بجٹ میں اقدامات ناگزیر ہیں، رہائشی سوسائٹیز کمپنیوں کو پبلک لمیٹڈ منتقلی پر لایا جائے تاکہ عوام کی سرمایہ کاری محفوظ رہ سکے۔









