بھارت میں طویل وقفے کے بعد حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل(Petrol and diesel) کی قیمتوں میں فی لیٹر 3 روپے اضافے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد ملک میں سیاسی اور عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں اور بھارت اپنی توانائی ضروریات کے باعث دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بھارتی ڈیلرز نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 3 روپے اضافہ کیا ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر خام تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث ہونے والے مالی نقصانات کا کچھ ازالہ کرنا بتایا جا رہا ہے۔ بھارت، جو دنیا میں تیل درآمد کرنے اور استعمال کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے، ان آخری بڑی معیشتوں میں شامل ہے جنہوں نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہونے کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں ردوبدل کیا ہے۔ یہ صورتحال ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی سے مزید پیچیدہ ہوئی ہے۔
بھارت میں سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیاں، جن میں انڈین آئل کارپوریشن، ہندستان پیٹرولیم کارپوریشن اور بھارت پیٹرولیم کارپوریشن شامل ہیں، ملک بھر کے ایک لاکھ سے زائد فیول اسٹیشنز میں سے بڑی اکثریت کو کنٹرول کرتی ہیں اور عام طور پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں باہمی مشاورت سے طے کی جاتی ہیں۔ بھارت پیٹرولیم کارپوریشن کے ترجمان نے قیمتوں میں اضافے کی تصدیق کی ہے، تاہم انڈین آئل اور ہندستان پیٹرولیم کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
مزیدپڑھیں:سنیپ چیٹ کی نقل یاکچھ اور۔۔۔انسٹاگرام نے تصاویر خودبخود غائب ہونیوالی ایپ متعارف کرادی
نئی قیمتوں کے مطابق بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں پیٹرول کی قیمت 97.77 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 90.67 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اس سے قبل پیٹرول 94.77 روپے اور ڈیزل 87.67 روپے فی لیٹر میں فروخت ہو رہا تھا، جس کے نتیجے میں ڈیزل میں تقریباً 3.4 فیصد اور پیٹرول میں 3.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں حالیہ دنوں میں 120 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی تھیں، تاہم بعد ازاں یہ 100 سے 105 ڈالر فی بیرل کے درمیان آ گئی ہیں۔ اس کے باوجود توانائی کی عالمی صورتحال بدستور غیر یقینی ہے اور اسی دباؤ کے باعث مختلف ممالک اپنی اندرونی قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ کر رہے ہیں۔
ممبئی میں قائم مالیاتی ادارے ایم کے گلوبل فنانشل سروسز کی چیف اکانومسٹ مادھوی اروڑا کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست مہنگائی پر محدود اثر ڈال سکتا ہے، تاہم بالواسطہ طور پر اس کے اثرات زیادہ وسیع ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ اضافہ ابتدائی نوعیت کا ہے اور آئندہ مرحلہ وار مزید اضافے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
بھارتی حکومت نے توانائی بحران اور درآمدی بل پر قابو پانے کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات بھی شروع کر دیے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے حالیہ بیان میں ایندھن کے استعمال میں کمی، غیر ضروری سفر سے گریز، ورک فرام ہوم اور سرکاری اخراجات میں کمی جیسے اقدامات پر زور دیا ہے۔ ان کے مطابق عالمی توانائی قیمتوں میں اضافے کے باعث بھارت کے زرمبادلہ ذخائر دباؤ میں ہیں۔
کئی ریاستوں میں سرکاری محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ غیر ضروری سفر محدود کیا جائے، اجلاس آن لائن منعقد کیے جائیں اور دفاتر میں عملے کی حاضری کم رکھی جائے۔ بعض اطلاعات کے مطابق یہ اقدامات وفاقی سطح تک بھی بڑھائے جا سکتے ہیں، جس سے سرکاری نظام میں مزید سختی کا عندیہ ملتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ اضافہ اگرچہ محدود ہے، تاہم یہ ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔ موڈیز سے وابستہ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے ایندھن کی طلب میں اضافہ سست پڑ سکتا ہے، جبکہ ورک فرام ہوم جیسے رجحانات بھی مجموعی کھپت پر اثر انداز ہوں گے۔ دوسری جانب ادارہ آئی سی آر اے نے بھی پیٹرول اور ڈیزل کی طلب میں اضافے کی شرح کے سابقہ اندازوں میں کمی کر دی ہے۔
قیمتوں میں اضافے کے بعد بھارت میں اپوزیشن جماعتوں اور عوامی حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کی جا رہی ہے، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام عالمی معاشی حالات اور توانائی بحران کے تناظر میں ناگزیر تھا۔ یاد رہے کہ بھارت میں اس سے قبل پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں آخری بڑا اضافہ 2022 میں ہوا تھا، جبکہ 2024 کے عام انتخابات سے قبل قیمتوں میں معمولی کمی کی گئی تھی۔









