امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ( Donald Trump )کی تصویر والے نئے 250 ڈالر کے نوٹ کی تجویز سامنے آنے کے بعد امریکا میں سیاسی ہلچل مچ گئی ہے، جبکہ ناقدین نے اسے امریکی روایات کے خلاف اور ’’شخصی پرستی‘‘ کو فروغ دینے کی کوشش قرار دیا ہے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ 250 ڈالر کے نوٹ پر ڈونلڈ ٹرمپ کی نمایاں تصویر کے ساتھ ’’America 250 Anniversary‘‘ درج ہوگا، جو امریکا کے 250ویں یومِ آزادی کی مناسبت سے تیار کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ منصوبہ منظور ہوگیا تو ڈیڑھ صدی بعد پہلی مرتبہ کسی زندہ شخصیت، خصوصاً موجودہ صدر، کی تصویر امریکی کرنسی پر شائع ہوگی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ برس محکمہ خزانہ میں تعینات ٹرمپ کے دو قریبی عہدیداروں نے بیورو آف اینگریونگ اینڈ پرنٹنگ کے عملے کو اس نوٹ کے ابتدائی ڈیزائن تیار کرنے کی ہدایات دی تھیں۔
ادارے کے بعض ملازمین نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس اقدام پر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں کیونکہ امریکی قانون زندہ صدور کی تصاویر کرنسی پر شائع کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
بیورو کی ڈائریکٹر پیٹریشیا سولیمین نے بھی اس منصوبے پر قانونی اور انتظامی رکاوٹوں کی نشاندہی کی تھی، تاہم بعد ازاں انہیں اچانک عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مختلف قومی اداروں اور یادگاری منصوبوں میں ٹرمپ کا نام اور تصویر شامل کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ رواں سال امریکا کے 250 سال مکمل ہونے کی مناسبت سے 24 قیراط سونے کا خصوصی یادگاری سکہ بھی منظور کیا گیا ہے۔
ڈیموکریٹ رہنماؤں نے اس تجویز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سینیٹر مارک وارنر نے کہا کہ یہ اقدام وائٹ ہاؤس کی جانب سے ’’صدر کی انا کو بڑھانے‘‘ کی واضح کوشش ہے۔
ادھر امریکی محکمہ خزانہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مجوزہ قانون سازی کے تناظر میں ضروری منصوبہ بندی اور قانونی جائزہ لیا جا رہا ہے۔









