امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس(white house) میں کابینہ کے اجلاس کے دوران امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے
ایک جنگ بندی جو ’دھاگے سے لٹکی‘ ہے، ایک سفارتی عمل جو ’آگے بڑھ رہا ہے‘، ایک صدر جو ’مطمئن نہیں‘ اور دھماکے ہیں جن کی آواز خلیج کے اطراف گونج رہی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات کی موجودہ، الجھی ہوئی کیفیت کو کیسے سمجھا جائے؟ کیا ہم امن کے قریب ہیں یا دوبارہ جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں؟
پہلے وائٹ ہاؤس نے اطلاع دی کہ دونوں ممالک کے مذاکرات کاروں نے جنگ بندی میں 60 روزہ توسیع کے ایک فریم ورک پر اتفاق کر لیا ہے تاکہ مزید بات چیت کے لیے گنجائش پیدا ہو سکے۔
اور پھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہہ دیا کہ ’ابھی معاہدہ ہوا نہیں لیکن ہم اس کے بہت قریب ہیں اور اس پر کام جاری رکھیں گے۔‘
یوں ایک ایسے ہفتے کا اختتام ہو رہا ہے جس کے دوران آٹھ اپریل سے نافذ جنگ بندی کئی بار امتحان میں پڑی۔امریکہ نے تین دن میں دو بار ایران پر حملے کیے اور ایران نے ’جارحیت کا جواب دینے‘ کا اعلان کیا۔
اس کے بعد پاسداران انقلاب نے ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ یہ بات پاسداران انقلاب نے تو نہیں بتائی کہ انھوں نے کون سے امریکی اڈے کو نشانہ بنایا۔
تاہم بعد میں امریکہ کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے کہا کہ کویت کے اوپر ایک بیلسٹک میزائل کو روک لیا گیا۔ یہاں امریکہ کے کئی اڈے موجود ہیں۔
مزید پرھیں:اسلام آباد، گھر میں گیس سلینڈر دھماکا، 2 افراد جاں بحق، 3 زخمی ہوگئے
تہران کی ہی زبان استعمال کرتے ہوئے سینٹکام نے اس حملے کو ’جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیا۔









