بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

یونین کونسل رجسٹریشن نظام مزید ڈیجیٹل ہو گیا

پاکستان میں بچوں کی پیدائش کے بعد ان کی رجسٹریشن کے عمل کو مزید تیز، آسان اور ڈیجیٹل بنانے کے لیے نادرا نے نیا نظام متعارف کرا دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (NADRA) نے ’’برتھ نوٹیفکیشن ٹول‘‘ کے نام سے ایک نیا ڈیجیٹل سسٹم متعارف کرایا ہے، جس کے ذریعے بچے کی پیدائش ہوتے ہی والدین کو خودکار ایس ایم ایس موصول ہوگا اور قانونی رجسٹریشن کے عمل کا آغاز فوری طور پر ہو جائے گا۔

نئے نظام کے تحت ہسپتال یا کسی بھی طبی مرکز میں بچے کی پیدائش کے فوراً بعد والدین کے موبائل نمبر پر اطلاع بھیج دی جائے گی۔ یہ پیغام ابتدائی ریکارڈ کے طور پر کام کرے گا اور یونین کونسل میں باقاعدہ پیدائش کی رجسٹریشن میں مدد فراہم کرے گا۔

نادرا کے ترجمان سید شہابت علی کے مطابق اس اقدام کا مقصد پاکستان کے شہری اندراج کے نظام کو جدید اور عالمی معیار کے مطابق بنانا ہے تاکہ پیدائش کے وقت ہی شناخت کا عمل شروع ہو سکے۔ ان کے مطابق ماضی میں ابتدائی رجسٹریشن میں تاخیر ایک بڑا مسئلہ رہی ہے، جسے اس نئے نظام کے ذریعے کم کیا جائے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ نظام سرکاری اور نجی ہسپتالوں کے تعاون سے نافذ کیا گیا ہے۔ ایس ایم ایس ایک ابتدائی ریکارڈ کے طور پر استعمال ہوگا، جبکہ اصل قانونی مرحلہ یونین کونسل سے پیدائش کا سرٹیفکیٹ جاری ہونے کے بعد مکمل ہوگا۔

مزیدپڑھیں:جوا ایپ کیس، یو ٹیوبر اور ٹک ٹاکر ندیم نانی والا کی ضمانت میں توسیع

والدین یہ رجسٹریشن شناختی کارڈ، اسپتال کے ریکارڈ یا نادرا کی جانب سے بھیجے گئے ایس ایم ایس کی بنیاد پر مکمل کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ اس سہولت کو پاک آئیڈینٹیٹی موبائل ایپ کے ذریعے سندھ اور پنجاب میں فعال کر دیا گیا ہے جبکہ بلوچستان میں توسیع کا عمل جاری ہے۔

خیبرپختونخوا میں اس نظام کے نفاذ کے لیے منظوری کے بعد عمل درآمد کیا جائے گا۔

 اس ڈیجیٹل اقدام سے نہ صرف کاغذی کارروائی میں کمی آئے گی بلکہ پیدائش کے فوری بعد بچوں کی رجسٹریشن کا تناسب بھی بہتر ہونے کی توقع ہے۔