بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

کیوں مجھے ملک سے نکالا گیا، کیوں جیلوں میں ڈالا گیا؟ قصور آپ کا بھی ہے، نواز شریف کا عوام سے شکوہ

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر Nawaz Sharif نےکہاکہ گلگت بلتستان میں ترقیاتی منصوبے شروع تو کیے جاتے ہیں لیکن انہیں مکمل کرنے کی رفتار انتہائی سست ہے، جس کی وجہ سے عوام آج بھی بنیادی مسائل کا شکار ہیں۔

گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے خطے کی ترقی، منصوبوں کی تاخیر اور بنیادی سہولیات کی کمی پر تفصیلی بات کی ہے۔صدر مسلم لیگ ن اورسابق وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب وہ وزیر اعظم تھے تو انہوں نے کئی بار گلگت اور اسکردو کا دورہ کیا اور اس خطے کو ترقی یافتہ دیکھنے کا خواب دیکھا تھا، لیکن آج وہی علاقے سڑکوں کی خراب حالت اور بنیادی سہولتوں کی کمی کے باعث پیچھے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں پر گڑھوں اور ٹوٹ پھوٹ کی صورتحال دیکھ کر انہیں شدید دکھ ہوا ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ مانسہرہ سے گلگت تک مجوزہ شاہراہ کیوں مکمل نہیں ہو سکی اور اس تاخیر کے ذمہ دار کون ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی سیاسی جماعت پر براہ راست تنقید نہیں کرنا چاہتے، لیکن یہ سوال ضروری ہے کہ بڑے ترقیاتی منصوبے کیوں رکے ہوئے ہیں۔

نواز شریف نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں گلگت بلتستان میں متعدد منصوبے شروع اور مکمل کیے گئے، جن میں اسپتالوں کی تعمیر، ہائیڈل پاور منصوبے اور نگر کا منصوبہ شامل ہیں۔ ان کے مطابق بعد کے ادوار میں ان منصوبوں پر وہ توجہ نہیں دی گئی جس کی وہ ضرورت تھی، جس کے باعث خطے کی ترقی سست پڑ گئی۔

مزیدپڑھیں:یونین کونسل رجسٹریشن نظام مزید ڈیجیٹل ہو گیا

انہوں نے گلگت بلتستان کے ہوائی اڈے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں یہاں بڑے طیاروں کی لینڈنگ کے لیے سہولتیں ناکافی ہیں۔ ان کے مطابق گلگت ایئرپورٹ کو جدید اور وسیع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سیاحت اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعظم شہباز شریف سے بات کریں گے کہ اس منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے۔

خطاب میں انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سیاحت کے وسیع امکانات موجود ہیں اور اگر انفراسٹرکچر بہتر ہو جائے تو یہ خطہ روزگار کا بڑا مرکز بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق سیاحتی شعبے کی ترقی سے مقامی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے اور خطے کی معیشت مضبوط ہوگی۔

نواز شریف نے تعلیم اور صحت کے شعبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں جدید اسپتالوں کی کمی ہے اور مریضوں کو علاج کے لیے اسلام آباد یا دوسرے بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ مقامی سطح پر علاج کی بہتر سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ لوگوں کو مشکلات نہ ہوں۔

انہوں نے ہاؤسنگ اور قرضوں کے حوالے سے بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو آسان اقساط اور بلاسود قرضوں کے ذریعے گھر بنانے کے مواقع ملنے چاہئیں۔ ان کے مطابق نوجوانوں کے لیے تعلیمی اسکالرشپس اور لیپ ٹاپ اسکیمیں بھی ضروری ہیں تاکہ وہ جدید تعلیم حاصل کر سکیں۔

نواز شریف نے دیامر بھاشا ڈیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں زمین کے لیے 100 ارب روپے فراہم کیے گئے تھے، تاہم اس منصوبے میں غیر معمولی تاخیر ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ڈیم نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے اہم ہے کیونکہ اس سے پانی کے ذخائر اور بجلی کی پیداوار دونوں میں بہتری آئے گی۔

انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ اگر ان کی جماعت کو موقع ملا تو وہ ان منصوبوں کی خود نگرانی کریں گے اور ہر چند ماہ بعد گلگت بلتستان کا دورہ کر کے ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیں گے۔ ان کے مطابق وہ چاہتے ہیں کہ خطہ ترقی کرے اور یہاں کے عوام کو وہ سہولتیں ملیں جن کے وہ مستحق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہاں کہا جا رہا ہے کہ ہمیں این ایف سی سے حصہ ملنا چاہیے، ہم نے اس سلسلے میں 2017 میں ایک کمیٹی بنائی تھی، اس کے بعد ہمیں نکال دیا گیا، اس وقت کمیٹی نے سفارشات مرتب کیں تھیں جنہیں ہم نے عملی جامہ پہنانا تھا، اس کا مطلب یہ کام اسوقت ہوگیا ہوتا، مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس سے نکالاگیاآپ لوگوں نے یہ کیوں ہونے دیا۔

نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔