پاکستان(Pakistan) میں آم سے تیار کیے جانے والے جوسز(Juices) کے معیار سے متعلق ایک اہم انکشاف سامنے آیا ہے، جس پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
چیئرمین سید حسین طارق کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں بتایا گیا کہ متعدد جوس تیار کرنے والی کمپنیاں آم کے اصل گودے کے بجائے مصنوعی فلیور اور ذائقوں کا استعمال کر رہی ہیں۔ کمیٹی کے اراکین نے اس عمل کو عوامی صحت، خصوصاً بچوں کی صحت کے لیے تشویشناک قرار دیا۔
اجلاس کے دوران اراکین نے خدشہ ظاہر کیا کہ مصنوعی فلیورز اور غیر معیاری اجزاء پر مشتمل مشروبات بچوں میں مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ کمیٹی نے متعلقہ اداروں سے جوس انڈسٹری میں استعمال ہونے والے اجزاء کی سخت نگرانی اور معیار کی جانچ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں آم کی پیداوار، جوس انڈسٹری کی صورتحال، زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز، کھاد کی قیمتوں اور زرعی برآمدات سے متعلق امور کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
مزیدپڑھیں:بلاول نے بہتر مہم چلائی، شہباز، آخر بیٹا کس کا ہے؟ زرداری کا جواب
اس موقع پر پاکستان مینگو ایسوسی ایشن کے صدر ملک جہانزیب نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ رواں سیزن کے دوران ملک میں آم کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں آم کی پیداوار تقریباً ایک لاکھ 80 ہزار ٹن تک کم ہوئی ہے، جس کی بڑی وجوہات موسمی تبدیلیاں، شدید گرمی اور دیگر ماحولیاتی عوامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پیداوار میں کمی کے باعث نہ صرف مقامی مارکیٹ متاثر ہوگی بلکہ آم کی برآمدات پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے، جس سے زرِمبادلہ کے حصول میں کمی آ سکتی ہے۔
کمیٹی نے آم کی پیداوار میں کمی اور جوس انڈسٹری میں مبینہ طور پر مصنوعی اجزاء کے استعمال کے معاملے پر متعلقہ اداروں سے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو معیاری اور محفوظ غذائی مصنوعات کی فراہمی یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔









