بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

خبردار! کھیرا کھانا بیمار بھی کر سکتا ہے

کھیرا (cucumber)موسمِ گرما میں پسند کی جانے والی غذائیت سے بھرپور اور پانی کی وافر مقدار رکھنے والی سبزی ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ہر فرد کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں اور بعض افراد میں صحت کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

ماہرینِ غذائیت کے مطابق کھیرے میں بہت کم مقدار میں پائے جانے والا ریشہ اور قدرتی مرکبات بعض حساس افراد میں پیٹ پھولنے، گیس، معدے میں مروڑ، بدہضمی اور دیگر ہاضمے کے مسائل کا سبب بن سکتے ہیں، خاص طور پر اگر اسے زیادہ مقدار میں یا چھلکے سمیت کھایا جائے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ زیادہ کڑوا ذائقہ رکھنے والے کھیروں سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ ان میں مخصوص قدرتی مرکبات کی مقدار زیادہ ہو سکتی ہے جو متلی، قے، پیٹ درد اور اسہال کا باعث بن سکتے ہیں۔

کچا کھیرا اگر اچھی طرح دھویا یا محفوظ نہ کیا جائے تو اس پر موجود نقصان دہ جراثیم فوڈ پوائزننگ کا سبب بن سکتے ہیں، ایسی صورت میں اسہال، بخار، قے، متلی اور معدے میں شدید درد جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔

اگرچہ یہ مسئلہ کم پایا جاتا ہے لیکن بعض افراد کو کھیرے سے الرجی بھی ہو سکتی ہے، اس کی علامات میں منہ یا گلے میں خارش، ہونٹوں یا زبان کی سوجن، گلے میں جلن، جِلد پر دانے اور ہاضمے کی خرابی شامل ہے۔

مزیدپڑھیں:پاکستان جمعے کو جنیوا میں ایران امریکا معاہدے کی تقریب کی میزبانی کرے گا: وزیرِ اعظم شہباز شریف

ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید علامات کی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کرنی چاہیے۔

کھیرا پانی کی مقدار زیادہ ہونے کے سبب پیشاب آور خصوصیات بھی رکھتا ہے اس لیے ضرورت سے زیادہ استعمال بار بار پیشاب آنے کا سبب بن سکتا ہے، جن افراد کو سیال مادوں کے استعمال میں احتیاط کی ہدایت دی گئی ہو وہ ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق کھیرا استعمال کریں۔

غذائی ماہرین نے محفوظ استعمال کے لیے مشورہ دیا ہے کہ کھیروں کو اچھی طرح دھو کر کھایا جائے، صاف اور ٹھنڈی جگہ پر محفوظ رکھا جائے، زیادہ کڑوے کھیروں سے اجتناب کیا جائے، معتدل مقدار میں استعمال کیا جائے اور حساس معدے والے افراد انہیں چھیل کر کھائیں۔

ماہرین کے مطابق زیادہ تر افراد کے لیے کھیرا محفوظ، صحت بخش اور جسم کو پانی فراہم کرنے والی غذا ہے تاہم کچھ افراد میں یہ اپھارے کا سبب بھی بن سکتا ہے، اسی لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔