فنانس بل میں ایف بی آر(FBR) کی جانب سے ٹیکس اپیلوں کی جانچ کے لیے ایک آزاد کیس اسکروٹنی کمیٹی قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
تجویز کے مطابق ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں ہر ٹیکس اپیل دائر کرنے سے قبل کمیٹی کی منظوری لازمی ہو گی جبکہ آزاد کمیٹی کی منظوری کے بغیر ایف بی آر کوئی اپیل دائر نہیں کر سکے گا۔
فنانس بل کے تحت ٹیکس تنازعات کے عدالتی جائزے کے لیے نیا نگرانی نظام متعارف کروانے کی تجویز بھی دی گئی ہے، کمیٹی انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور تمام ٹیکس مقدمات کی اسکروٹنی کرے گی۔
مزیدپڑھیں:خبردار! کھیرا کھانا بیمار بھی کر سکتا ہے
تجویز کے مطابق اعلیٰ عدلیہ کے کسی بھی ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں آزاد جانچ کمیٹی قائم کی جائے گی جس میں 15 سالہ تجربہ رکھنے والا سینئر ٹیکس وکیل اور ایف بی آر آفیسرز بھی شامل ہوں گے۔
فنانس بل کے مطابق اپیلیٹ ٹریبونل اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کا پہلے آزادانہ جائزہ لیا جائے گا جبکہ کمشنر ان لینڈ ریوینیو کمیٹی کی سفارشات پر عمل کرنے کا پابند ہو گا۔
تجویز میں کہا گیا ہے کہ آزاد کیس اسکروٹنی کمیٹی اپنے قیام کے ساتھ ہی کام کا آغاز کر دے گی۔









