پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر پانی کے بڑھتے ہوئے بحران، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور انڈس واٹر ٹریٹی (معاہدہ سندھ طاس) سے متعلق خدشات کو بھرپور انداز میں اجاگر کرتے ہوئے خلائی ٹیکنالوجی (Space Technology)کے مؤثر استعمال پر زور دیا ہے۔
پاکستان کی جانب سے پیش کیے گئے موقف میں کہا گیا کہ دنیا اس وقت میٹھے پانی کے شدید بحران سے دوچار ہے جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آبی وسائل پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جو پانی کی شدید قلت اور موسمیاتی خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ملک میں فی کس پانی کی دستیابی خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے جبکہ شمالی علاقوں کے گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں جس سے مستقبل میں پانی کی صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔
پاکستان نے اپنے بیان میں کہا کہ حالیہ برسوں کے تباہ کن سیلابوں نے ملکی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے اور لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔ اس تناظر میں جدید خلائی ٹیکنالوجی اور سیٹلائٹ ریموٹ سینسنگ کو آبی وسائل کے مؤثر انتظام، سیلابی خطرات کی پیشگی نگرانی اور آبی ذخائر کی استعداد جانچنے کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا۔
پاکستان نے انڈس واٹر ٹریٹی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے کی مکمل پاسداری خطے میں آبی استحکام اور امن کے لیے ضروری ہے۔
پاکستان نے اس امر کی نشاندہی کی کہ دریائے سندھ کے نظام سے وابستہ کروڑوں افراد کی زندگیوں اور زرعی معیشت کا انحصار پانی کی منصفانہ تقسیم پر ہے، لہٰذا خلائی ٹیکنالوجی کے ذریعے آبی ذخائر، دریا کے بہاؤ اور معاہدے کے تحت طے شدہ حدود کی نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
پاکستان نے اپنے قومی خلائی پروگرام اور پالیسی کے تحت سیٹلائٹ ریموٹ سینسنگ، گلیشیئرز کی نگرانی، آبی ذخائر کی نقشہ سازی، ہائیڈرولوجیکل مانیٹرنگ اور سرحد پار آبی بہاؤ کی نگرانی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مشترکہ کوششوں کی اپیل کی۔
مزید پڑھیں:مردان: اراضی تنازع پر گھر میں گھس کر فائرنگ، 3 افراد قتل، ملزمان فرار
پاکستان کے اس مؤقف کو عالمی آبی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے اور جدید خلائی ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے ایک اہم اور بروقت اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔









