امریکا ایران معاہدہ(Ceasefire) کیسے طے پایا….؟ برطانوی اخبار کی تفصیلی رپورٹ منظر عام پر آگئی،معاہدے کیلئے قطر کی خفیہ سفارتی مشن کے ذریعے تہران تک رسائی ،پاکستان کی اہم شمولیت،دھمکیاں،ٹرمپ کی جلد بازی بمقابلہ ایران کی سست سفارتی حکمت عملی ،اسرائیلی مداخلت اور علاقائی کشیدگی نے معاہدے کو کئی بار خطرے میں ڈالا۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ امن معاہدہ ایک نہایت پیچیدہ، غیر یقینی اور کثیر الجہتی سفارتی عمل کا نتیجہ ہے، جس میں قطر اور پاکستان کی قیادت میں ثالثوں نے ہفتوں تک شدید دشمنی، عدم اعتماد، اور مسلسل فوجی کشیدگی کے باوجود پیش رفت کی کوشش کی۔
اس عمل میں ایک جانب ڈونلڈ ٹرمپ کی جلد بازی اور غیر متوقع حکمت عملی، جبکہ دوسری جانب تہران کی داخلی سطح پر معاہدے کو قابلِ قبول بنانے کی ضرورت بڑی رکاوٹیں رہیں۔
مذاکرات کے دوران بارہا امریکی حملے، ایرانی جوابی کارروائیاں، اسرائیلی مداخلت اور جنگ کے خدشات نے سفارت کاری کو پٹری سے اتارنے کی کوشش کی، حتیٰ کہ قطری وفد کو تہران ایئرپورٹ پر گھنٹوں انتظار کرنا پڑا۔
14 نکاتی مفاہمتی یادداشت میں جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کی بحالی، اور جوہری پروگرام پر مذاکرات جیسے اہم نکات شامل کیے گئے، جبکہ ایران نے افزودہ یورینیم پر بات چیت اور امریکانے مرحلہ وار پابندیوں میں نرمی پر آمادگی ظاہر کی۔
اس پورے عمل میں اعتماد کا فقدان، ڈیڈ لائن کا دباؤ، اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کلیدی عوامل رہے، یہاں تک کہ شہباز شریف نے سب سے پہلے معاہدے کی پیش رفت کا اعلان کیا، مگر حتمی دستخط سے قبل اب بھی محتاط امید کا عنصر برقرار ہے۔
مزیدپڑھیں:امریکا ایران معاہدے میں 300 ارب ڈالر کا نجی سرمایہ کاری فنڈ شامل
تفصیلی رپورٹ کے مطابق مصالحت کاروں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان تقریباً نصف صدی پر محیط دشمنی کو ختم کرنے کے لیے ہفتوں تک ایک منصوبے پر کام کیاچند گھنٹوں کے لیے تہران میں قطری ثالثوں نے خود کو یہ یقین دلانے کی اجازت دی کہ شاید بدترین مرحلہ گزر چکا ہے۔
دو سخت دشمنوں کے درمیان ہفتوں تک آمدورفت اور ایرانی حکام کے ساتھ ایک طویل اور تھکا دینے والے دن کی بات چیت کے بعد، اس چھوٹے وفد کو ایک ایسے معاہدے کی شکل بنتی دکھائی دی جس میں شامل تھاجنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی، اور جوہری مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک۔لیکن پھر، جب وہ جمعرات کی علی الصبح دوحہ واپس جانے کے لیے تیار ہو رہے تھے، امریکی لڑاکا طیاروں نے جنوبی ایران میں اہداف کو نشانہ بنایا۔









