اسلام آباد،: وفاقی وزیر امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران انجینئر امیر مقام(Amir Muqam) نے سابقہ فاٹا و پاٹا / مالاکنڈ ڈویژن کے عوام پر نئے ٹیکسوں کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یہ فیصلہ واپس لیا جائے۔
پہلے ان علاقوں کو بنیادی سہولیات، ترقیاتی منصوبے اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابقہ فاٹا و پاٹا / مالاکنڈ ڈویژن کے عوام پہلے ہی متعدد مشکلات اور محرومیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

ایسے حالات میں مزید ٹیکس عائد کرنا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا و پاٹا/ مالاکنڈ ڈویژن کے عوام کے تحفظات وزیراعظم کے سامنے رکھ دیے گئے ہیں اور امید ہے کہ ان پر مثبت غور کیا جائے گا۔
انجینئرامیر مقام نے کہا کہ نئے ٹیکسوں کا بوجھ عام دکانداروں اور تنخواہ دار طبقے پر پڑے گا، جبکہ انضمام شدہ علاقوں میں ترقیاتی کام، تعلیمی و طبی سہولیات اور امن و امان کی صورتحال اب بھی مطلوبہ معیار تک نہیں پہنچ سکی۔
انہوں نے کہا کہ فاٹاو پاٹا کے عوام کو احتجاج پر مجبور نہ کیا جائے اور پسماندہ علاقوں پر مزید مالی بوجھ ڈالنے سے گریز کیا جائے۔وفاقی وزیر نے وزیراعظم محمد شہباز شریف سے اپیل کی کہ فاٹا و پاٹا/ مالاکنڈ ڈویژن کے عوام کے لیے خصوصی رعایت دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ فاٹا و پاٹا / مالاکنڈ ڈویژن کے عوام ٹیکسوں کے مخالف نہیں بلکہ ناانصافی کے خلاف ہیں اور تمام سیاسی جماعتیں اس معاملے پر یکساں مؤقف رکھتی ہیں۔
اس موقع پر مسلم لیگ ن کے مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات سابق سینیٹر زاہد خان نے کہا کہ ملاکنڈ کے انضمام کے وقت ٹیکس نافذ نہ کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا جبکہ فاٹا کے لیے سالانہ ترقیاتی فنڈز کی فراہمی کے وعدے بھی مکمل طور پر پورے نہیں کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے سے نافذ ٹیکس اپنی جگہ موجود ہیں، تاہم مزید ٹیکسوں کا نفاذ کسی صورت قابل قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ انضمام شدہ علاقوں میں ہسپتالوں، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی کمی کے ساتھ ساتھ امن و امان کے مسائل بھی برقرار ہیں۔
لہٰذا ایسے حالات میں مزید محصولات عائد کرنا عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہوگا۔آزاد کشمیر سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انجینئر امیر مقام نے کہا کہ آزاد کشمیر میں بروقت انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے گا۔
مزید پڑھیں:ایران ایٹمی تنصیبات کے مکمل معائنے پر رضامند ہے، ٹرمپ کا دعویٰ
عوامی نمائندوں کی حکومت قائم ہوگی اور خطے میں امن، ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔اس موقع پر مسلم لیگ ن کے مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات سابق سینیٹر زاہد خان اور ایم این اے ثمر بلور بھی موجود تھے۔








